فیضان اسلام انٹرنیشنل ایجوکیشن سنٹر مانچسٹر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریب

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) فیضان اسلام انٹرنیشنل و ایجوکیشن سنٹر مانچسٹر اولڈ ٹریفورڈ و مرکزی اہل سنت والجماعت کی جانب سے پانچ اگست مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے آرٹیکل 370 اور 35 A ختم کرنے کا پہلا سال مکمل ہونے پر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک احتجاجی تقریب کا انعقاد ہوا۔
رکن برطانوی پارلیمنٹ کیٹی گرین نے بذریعہ وڈیوپیغام کشمیری قوم کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مشکل ترین حالات سے گزر ہیں وہاں پر جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں ان کا مذید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تمام ذمہ دار اداروں کو کشمیری قوم کو انصاف کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں اور برطانوی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اس بارے اپنا کردار ادا کرے۔
علامہ نصیر اللہ نقشبندی نے کہا انڈیا کی مکاری تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ناکام بنادیں گے مگر انہیں منہ کی کھانی پڑی کیونکہ کشمیری قوم نے پچھلے ایک سال کے دوران اپنے آپ کو دنیا میں منوا لیا ہے اب یہ تحریک منطقی انجام تک پہنچے گی۔
محمد اقبال (ایم بی ای) کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی 1949 کی قراردادوں نے کشمیری قوم کو غلام بنا دیا ہوا ہے اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے وہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے کشمیری قوم کو انکا حق دے۔ علامہ شیخ غلام ربانی کا کہنا تھا کہ کشمیری قوم کو مذہب،رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر جینے کے وہ حقوق دیے جائیں جو دنیا بھر میں بسنے والی انسانیت کو حاصل ہیں۔ مسلم کانفرنس تحریک کشمیر بورڈ برطانیہ و یورپ کے چئیرمن چوہدری محمد بشیر رٹوی نے کہا مقبوضہ کشمیر میں آج لاک ڈاؤن کو ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہم کشمیری قوم کے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شانہ بشانہ اس وقت تک کھڑے ہیں جب تک انہیں آزادی نہیں مل جاتی۔
قاری جاوید اختر کا کہنا تھا کہ کشمیری ماؤں بہنوں ،بچوں اور نوجوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیر جلد آزاد ہو گا۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکا مولانا اورنگزیب کو ہوا۔ پاکستان کی سلامتی و ترقی کے ساتھ کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes