ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر قدرت اپنی کرامات دکھاتی ہے؛ پیر ابو احمد

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) 5 اگست 2019 دنیا کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین کے نام سے لکھا جائے گا ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے علمبردار بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے آئین کی شق 370 اور 35 A کو ختم کر کے انتہا پسندی اور جدید بربریت و دہشت گردی اور کشمیریوں کو گھروں کے اندر محصور اور نوجوانوں پر ظلم و ستم کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جسکی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی اس پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی خاموشی نے ایسے سوالات کو جنم دیا جو دنیا کے مذہب، رنگ و نسل کے دوہرے معیار کی عین عکاسی کرتا ہے ۔ ان فرط جذبات و احساسات کو اداراہ نور السلام فیصل آباد کے بانی حضرت پیر ابو احمد محمد مقصود مدنی نے میڈیا کو دے گئے اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا ۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ آجکے جدید دور میں بھارتی سرکار نے کشمیری قوم پر رسل و رسائل کی جو پابندیاں عائد کی گھروں میں قید بنیادی سہولیات سے محروم کیا ہوا ہے کیا یہ انسانیت کے حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں ہیں یہاں میں یہ باور کرواتا چلوں کے بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر قدرت اپنے کرامات دکھاتی ہے اب وقت دور نہیں کے کشمیری قوم جو دہائیوں سے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے غیبی طاقت سے آزادی حاصل کرے گی لیکن اگر یہاں عالمی طاقتوں کا ماتم نہ کیا جائے تو یہ بے ضمیری کے زمرے میں آئے گا ۔ انہوں نے مذید کہا کے اب بھی وقت ہے کشمیری قوم کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے پیدائشی حق خودارادیت دیا جائے دریں اثنا بھارتی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم وبربریت کا بازار گرم کیا ہوا ہے اسے فی الفور بند کروانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے اگر باز نہ آئے تو سخت پابندیاں لگائی جائیں جب تک عالمی طاقتیں حق و سچ کا ساتھ نہیں دیں گی دنیا کبھی بھی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی۔ دعائے رب العالمین ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کرنے کے ساتھ اب تک ہونے والے شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes