کشمیری ظلم و ستم کی انتہا کے باوجود اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں؛ صدر آزاد کشمیر


مانچسٹر/ اسلام آباد (محمد فیاض بشیر) جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹرنیشنل کے زیر اہتمام یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے اشتراک سے انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیرکانفرنس کا انعقاد، ویڈیو کے ذریعے بین الاقوامی پارلیمنٹری کشمیر کانفرنس میں برطانوی و یورپین پارلیمنٹ کے ارکان، قومی اسمبلی و سینیٹ پاکستان، آزاد کشمیراسمبلی کے پارلیمنٹیرینز کی خصوصی شرکت،انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیرکانفرنس کے مہمان خصوصی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان اور لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا تھے جبکہ کانفرنس کی صدارت تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کی، کانفرنس کے منتظم یوتھ پارلیمنٹ کے صدر عبید الرحمن قریشی تھے۔ اس موقع پر انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیرکانفرنس میں تمام شرکاء، برطانوی، یورپین اور پاکستانی پارلیمنٹیرینز نے بھارتی حکومت کے 5اگست کے اقدام اور اس کے بعد نئے ڈومسائل قوانین اور دیگر کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارت بدترین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے، کانفرنس کے شرکاء نے عالمی اداروں، بین الاقوامی برادری اور فورمز، انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیں اور بھارت کو غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات سے روکا جائے، کانفرنس کے شرکاء نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ہر فورم پر اس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیر کانفرنس میں سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم لیڈر آف دی ہاؤس،پیپلز پارٹی کی رہنماء سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سحر کامران، تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید، ممبرقومی اسمبلی شاذا فاطمہ خواجہ، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی ماجد خان، ایم ایل اے سحرش قمر کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر پارلیمنٹری گروپ کی چیئرپرسن ایم پی ڈیبی ابراھم، ایم پی کیٹ گرین شیڈو سیکرٹری برائے تعلیم،چیئرپرسن آل پارٹیز پاکستان گروپ ایم پی بیرسٹر یاسمین قریشی، لارڈ قربان حسین سیکرٹری پارلیمنٹری کشمیر گروپ، ہاؤس کامن میں شیڈو ڈپٹی لیڈر ایم پی افضل خان، شیدو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، حکمران جماعت کے ممبر چیئرمین کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمز ڈیلی،کنزرویٹو ایم پی عمران احمد خان، ایم پی کریسچان ویکفورڈ، ایم پی روبی مور، لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، ایم پی طاہر علی، کنوینئیر لیبر فرینڈز آف کشمیر سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان، سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ شفاق محمد نے بھی خصوصی خطاب کیا۔ انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیر کانفرنس میں وزیر کارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر ظہور احمد نے وزیر خارجہ کی جانب سے کانفرنس میں پیغام پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیر کانفرنس سے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست کشمیری یوم استحصال کے طور پر منائیں گے۔مقبوضہ جموں و کشمیر پر مکمل قبضے اور محاصرے کے گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی)اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)نے مقبوضہ اور متنازعہ علاقے کشمیر کو فوجی حملے اور عسکری کارروائیوں کے ذریعے بھارتی ریاست کا زبردستی حصہ بنانے کے لیے غیر قانونی اور مجرمانہ اقدامات کیے ہیں۔ہم ان تمام اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بھارت نے محصور ریاست میں قتل عام، نسل کشی اور جنگی جرائم کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ بھارت کی یہ جرأت کہ اُس نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے جعلی نقشوں میں بھارتی ریاست کا حصہ دکھایا ہے یہ خطے شہیددوں اور غازیوں کے لہو سے آزاد ہو ئے تھے۔اس سال بھارت کی فسطائی حکومت نے ڈومیسائل قوانین کے تحت کشمیریوں سے اُن کی سکونت، شہریت،روزگار اور زمین کی ملکیت کے حقوق چھین لیے۔ پچھلے دو ماہ میں ہندوستان بھر سے چالیس ہزار ہندووں کو لا کر کشمیر میں آباد کاری کی اجازت دی گئی ہے، قابض فوجیوں اور بھارتی سرکاری افسروں اور اُن کے خاندانوں کو ایک منظم منصوبے کے تحت کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے۔بھارت کا یہ ہدف ہے کہ مقبوضہ وادی کی آبادی کے تناسب کو مستقل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ ہم دنیا کی بہادر ترین ’کشمیری قوم‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کشمیریوں نے اس غاصبانہ قبضے اور دہشت گردی کے باوجود ا پنی جدوجہد آزادی اور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کے لوگ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ہر حد پار کریں گے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سال کے دوران ہم دنیا کے ذرائع ابلاغ، غیر ملکی پارلیمانز، بین الاقوامی سول سو سائٹی اور حقوق انسانی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کشمیریوں کے حقوق کے لیے موثر آواز بلند کیاور ہندوستان کے اقدامات کی کھل کر مذمت کی۔ چین، ترکی، ملائیشیا، ایران، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)اور چند مغربی ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کھل کر ہمارا ساتھ دیا۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان کی قوم کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے اور ہر فورم پر کشمیری کی جدو جہد آزادی کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا۔ کشمیری دنیا میں تسلیم شدہ اپنے حق خود ارادیت کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی کشمیریوں کے ساتھ اور بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری، عالمی فورمز سے بھارتی اقدامات کے خلاف کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر کانفرنس کے صدر و تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کو پوری دنیا میں کشمیریوں اور انسان دوست لوگوں، بین الاقوامی فورمز نے مسترد کر دیا ہے۔ برطانیہ و یورپ سمیت پوری دنیا میں کشمیری ایک سال مکمل ہونے پر بھرپور احتجاج کریں گے۔ ہم نے صرف احتجاج بلکہ اس بات کا اعادہ کر تے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کی آزاد ی کے لئے ہم سفارتی محاذ پر اپنی سرگرمیوں اور جد وجہد کو ہر صورت پر جاری رکھیں گے۔ جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے عہدیداران لندن، برمنگھم، اسلام، مظفرآباد سمیت برطانیہ و یورپ کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ہمارے عہدیداران و کارکنان شریک ہوں گے۔ معروف کشمیری رہنماء راجہ نجابت حسین نے مزید کہا کہ بھارت ایک سال سے بدترین ظلم و تشدد کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی اقدامات اٹھا رہا ہے لیکن دنیا کی دیگر طاقتور اقوام کی حکومتوں نے کشمیر پر قبضے اور کشمیریوں کے حقوق کی پامالی پرکوئی لب کشائی نہیں کی جس کے باعث ہندوستان دیدہ دلیری سے کشمیر ی نوجوانوں کو قتل کر رہا ہے اور نہتے کشمیریوں سے فوجی طاقت کے ذریعے اُن سے اُن کا وطن چھین رہا ہے۔ ہم برطانیہ، یورپ کے کشمیر دوست ممبران پارلیمنٹ کے مشکور ہیں جو ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ انٹر نیشنل پارلیمنٹری کشمیر کانفرنس سے سینیٹ میں لیڈر آف دی ہاؤس سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم،پیپلز پارٹی کی رہنماء سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سحر کامران، تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید، ممبرقومی اسمبلی شاذا فاطمہ خواجہ، ممبر آزاد کشمیر اسمبلی ماجد خان، ایم ایل اے سحرش قمر،افشاں تحسین باجوہ چیئرپرسن نیشنل کمیشن آف پاکستان برائے چلڈرن    نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ظلم و جبر کے باوجود کشمیر ی اپنی جدو جہد کو ہر محاذ پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کو دبانے کا ہر حربہ اختیار کیا لیکن کشمیرسے آزادی کی شمع بجھانے میں ناکام رہا ہے۔اہل کشمیر نے بھارت کے ہر غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان اور جموں و کشمیر کے ازلی اور اور ابدی رشتے میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کامیاب ہو گی۔ اہل جموں و کشمیر،اہل پاکستان اور اُن کے دنیا بھر میں حمایتی ہندوستان کو بین الاقوامی کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور اُس کے گھناونے جرائم کو کسی صورت بھی تسلیم نہیں کریں گے۔برطانوی و یورپین پارلیمنٹ کے ارکان ایم پی ڈیبی ابراھم، ایم پی کیٹ گرین شیڈو سیکرٹری برائے تعلیم،چیئرپرسن آل پارٹیز پاکستان گروپ ایم پی بیرسٹر یاسمین قریشی، لارڈ قربان حسین سیکرٹری پارلیمنٹری کشمیر گروپ، ہاؤس کامن میں شیڈو ڈپٹی لیڈر ایم پی افضل خان، شیدو وزیر دفاع ایم پی خالد محمود، حکمران جماعت کے ممبر چیئرمین کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر ایم پی جیمز ڈیلی،کنزرویٹو ایم پی عمران احمد خان، ایم پی کریسچان ویکفورڈ، ایم پی روبی مور، لیبر پارٹی کی شیڈو وزیر ایم پی ناز شاہ، ایم پی طاہر علی، کنوینئیر لیبر فرینڈز آف کشمیر سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ واجد خان، سابق ممبر یورپین پارلیمنٹ شفاق محمد نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری، فورمز اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کے حالات کی سنگینی کا نوتس لیتے ہوئے بھارت کو اس کے اقدامات سے باز رکھیں۔ بھارت نے ایک سال میں کشمیر میں لاک داؤن کر کے جو جو اقدامات اٹھائے ہیں ہو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانا بھی بین الالقوامی برادری کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ حریت کانفرنس کے رہنماء سید منظور شاہ، تحریک انصاف برطانیہ کے صدر شرجیل ملک،چیئرپرسن فرینڈز آف کشمیر امریکہ غزالہ حبیب، یوتھ پارلیمنٹ کے صدر عبید الرحمن قریشی، کونسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی، تحریک حق خود ارادیت یوتھ کے چیئرمین ذیشان عارف،تحریک حق خود ارادیت کے کوآرڈینیٹر برائے پاکستان ڈاکٹر راجہ ساجد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایک سال میں کشمیر میں لاک داؤن کر کے ظلم و بربریت کی انتہائی حدود بھی پھلانگ دی ہیں۔ معصوم کشمیری بچے سے لے کر 80سال کے بوڑھے مردو خواتین بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بن رہیں۔ بھارت ہر حد کراس کر چکا لیکن کشمیریوں کا جذبہ حریت ختم نہیں کر سکا۔ کشمیریوں نے بھی یہ قسم کھائی ہے کہ وہ بھارتی حملے کو پسپا کریں گے اور ہندو توا کی فسطائی عمارت کو گرا کر دم لیں گے۔اس سلسلے میں ہم بین الاقوامی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارا ساتھ دیں ورنہ جو آگ ہندوستان نے بھڑکائی وہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اکیسویں صدی میں دن دھاڑے ایک نو آبادی کا قائم ہونا ایک اجتماعی جرم اور بین الاقوامی نظام کی ناکامی ہے، اِس جرم کو جڑ سے اُکھاڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کی طرف سے ایک کھلا خط بھی جاری کیا گیا جس میں 5اگست کے بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کو ھق خود ارادیت دینے کا مطالبات شامل ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes