ناروے میں اسلام مخالف تقریب میں ہنگامہ، انتہا پسند تنظیم کا سربراہ زخمی

اوسلو (کشمیر لنک نیوز) ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے قریب تین سو کلومیٹر دور واقع شہر برگن میں اسلام مخالف تنظیم کے پروگرام پر مسلمان نوجوانوں کا ہلہ تنظیم کے سربراہ کا سر پھٹ گیا، تین مسلمان نوجوان گرفتار متعدد زخمی۔

واضع رہے یہ وہی انتہا پسند تنظیم ہے جسکے سربراہ لارس تھورسن نے کچھ عرصہ قبل قرآن پاک جلانے کی ناپاک کوشش کی تھی۔ گزشتہ روز کا پروگرام بھی اسلام مخالف تھا جس میں اسلاموفوبیا کا بھرپور مطاہرہ کیا گیا، پولیس کیطرف سے کوئی ایکشن نہ ہونے پر مسلمانوں کے ایک گروہ نے خود ہی انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر فساد برپا ہوگیا۔

پولیس نے آکر اس جھگڑے کو ختم کیا جسکے لیئے اسے طاقت کا استعمال کرنا پرا۔
نارویجن میڈیا کےمطابق لوگوں نے سیان تنظیم کے لیڈر لارس تھورسن کو مارا پیٹا جس سے اس کے سر سے خون بہنا شروع ہو گیا، اسلام مخالف تقریروں سے روکنے والے افراد پر پولیس نے آنسوگیس کا استعمال کیا اور اس سلسلے میں پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا لیکن نارویجن میڈیا کے مطابق تین افراد پر سیان تنظیم کے رہنما لارس تھورسن پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تینوں افراد کی عمریں 20 سال ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes