نیوزی لینڈ میں 51 نمازیوں کو موت کی نیند سلادینے والا درندہ انجام کو پہنچ گیا

آکلینڈ (کشمیر لنک نیوز) نیوزی لینڈ کی عدالت نے گزشتہ سال مساجد پر حملے کرکے اکیاون نمازیوں کو شہید کردینے والے مجرم کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کی سب سے لمبی سزا سنا دی ہے۔

حملوں میں شہید ہونے والے مرد و خواتین

29 سالہ آسٹریلوی برینٹن ٹیرنٹ کو دی گئی عمر قید کی سزا پے رول پر رہائی کے بغیر ہے۔
ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مجرم کو ایسی سزا سنائی گئی ہے جس میں اس کے پاس پے رول پر رہائی حاصل کرنے کا کوئی حق نہ ہوگا۔
جج کیمرون نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تمہارا جرم اس قدر گھناؤنا ہے کہ اگر تم کو قید میں موت آ جائے تو بھی تمہاری سزا پوری نہیں ہوگی۔


اس دوران کمرہ عدالت میں رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، کچھ متاثرین بات کرتے ہوئے رو پڑتے اور ان کے لیے اپنے جملے مکمل کرنا مشکل ہو جاتا لیکن وہ ٹرینٹ کو یہ باور کرواتے رہے کہ یہ آنسو تمہارے لیے نہیں ہیں۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آردرن نے چار روزہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ اس حملے میں مرجانے والے اور انکے لواحقین کیلئے یہ ہفتہ بہت تکلیف دہ ہوگا۔ واضع رہے کہ انھوں نے عہد کررکھا ہے کہ وہ کبھی بھی حملہ آور کا نام نہیں لیں گی۔
مجرم نے پہلے اپنے پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی لیکن بعد میں انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes