ترک خاتون اول سے کیوں ملے؛ بھارتی انتہاپسندوں نے عامر خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ممبئی (شوبز نیوز) معروف بھارتی اداکار ایک بار پھر سے اپنے ہم وطن سورمائوں کے نشانے پر آگئے ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں ترک خاتون اول سے ملاقات پر قوم سے معافی مانگنی چاہیئے۔
ان عناصر میں خاص طور پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد ہیں جنہوں نے عامر خان کے اس دورے کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان کی اہلیہ سے ان کی ملاقات پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ بقول انکے صدر اردوغان نے اپنے ساتھ اختلاف رائے رکھنے والے ہزاروں افراد کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دے رکھا ہے۔

اس سلسلے کا آغاز تو حکمران انتہاپسند جماعت کے رہنمائوں کیطرف سے ہوا جس میں جھوٹے بڑے نئے پرانے سبھی کودتے رہے لیکن ہندوستان کے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کے ممبر ویوک اگنی ہوتری کی انٹری پر غیرجانبدار حلقوں اور شخصیات کو بڑا تعجب ہوا۔ ہوتری کا کہنا تھا کہ عامر خان کو اپنی ثقافتی سفارت کاری کے لئے معذرت کرنی چاہئے۔
اسکے جواب میں ماضی کے معروف اداکار شترو گن سنہا جو بی جے پی چھوڑ کر اب اپوزیشن کانگریس میں آچکے ہیں کا کہنا تھا کہ عامر خان انڈیا کے ذہین اداکاروں میں سے ہیں۔ وہ ملک کے ممتاز ثقافتی سفیر کی حیثیت سے اپنی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عامر خان نے ترکی میں خاتون اول کے ساتھ کافی پی ہے تو اس میں ایسا کیا ہے؟ وہ انڈیا کے سیاسی نمائندے کی حیثیت سے ترکی نہیں گئے تھے۔
وہ ایک فلم کی شوٹنگ کے لئے وہاں موجود تھا۔ ملک کے صدر کی اہلیہ سے اس دورہ میں شکریہ کہنے میں کیا غلطی ہے؟
واضع رہے کہ عامر خان اپنی نئی فلم لال سنگھ چڈھا کی شوٹنگ کے لیے خاص مقامات کی تلاش کے لیے استنبول گئے تھے۔ اس فلم کی 40 فیصد شوٹنگ انڈیا کی ریاست مشرقی پنجاب میں کی جا چکی ہے جبکہ پروڈکشن ٹیم نے کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر فلم کی بقیہ شوٹنگ کسی اور مقام پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلمی نقاد راجہ سین اور کرن انشومن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سب کا عامر کے کیریئر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes