جامعہ محمدیہ کے زیر اہتمام سالانہ تقسیم اسناد کی تقریب

بولٹن (محمد فیاض بشیر) برطانیہ میں بچیوں کے مستقبل کو سنوارنے اور آنے والی نسل کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے دینی تعلیم و تربیت کے لیے جامعہ محمدیہ بنیادی کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہے۔ مدینہ مسجد بولٹن میں جامعہ محمدیہ کی سالانہ تقسیم اسناد کی تقریب کورونا وائرس کی وجہ سے انتہائی سادگی سے منائی گئی جس میں جامعہ محمدیہ سے فارغ التحصیل طلبہ کو اسناد دی گئیں۔ جامعہ محمدیہ برطانیہ کے پرنسپل شیخ احمد دباخ نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے بچیوں کی تعیلم بارے مفصل بیان کیا۔

شیخ احمد دباخ کا کہنا تھا کہ بچیوں کی تعلیم و تربیت بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم ہے ان کا مذید کہنا تھا کہ برطانیہ میں ہماری نوجوان نسل سکولوں اور کالجوں میں تعیلم حاصل کرتی ہے لیکن انکی تربیت اچھے طریقے سے نہ ہونے سے انکی شخصیت ادھوری رہ جاتی ہے ۔ان کا کہنا تھا انسان کو یہ بات سکھانے کی ضرورت ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کیسے فائدہ مند ہو سکتا ہے جس سے اسکی زندگی اور آخرت سنور سکتی ہے اسکے لیے دینی تعلیم سے آگاہی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی آخرت درست کرنے اور اللہ اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کیسے درست ہو سکتا ہے تاکہ یہ بچی جہاں بھی جائے تاکہ جب وہ ماں بنے تو بہترین تربیت کرنے والی بنے اور جب بیوی ہو تو معاشرے کا بہترین فرد ثابت ہونے کے ساتھ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ تعیلم کے ساتھ تربیت پھر شخصیت سازی و تکمیل شخصیت پر ادارے میں ان پر محنت کی جاتی ہے کیونکہ عام فرد تعیلم نہیں بلکہ آپکا رویہ دیکھتا ہے اسی نظرے کے ساتھ مختصر و طویل مدت کورسز کروائے جاتے ہیں اسکے علاوہ عالمہ کورسز مختصر و طویل مدت کے بھی کروائے جاتے ہیں۔ مولانا مظہر کا کہنا تھا کہ جامعہ محمدیہ کی گریجویشن اور تقسیم اسناد کے لیے یہاں آئے ہیں جن بچیوں پورا سال محنت کر کے عالمہ کورسز مکمل کیا انکے ساتھ خوشی منانے کے لیے جمع ہیں ۔ان کا مذید کہنا تھا کہ ہم آگے چلکر عالمہ کورسز کے ساتھ ازدواجی زندگی بارے بھی تربیتی کورس کا اجرا کرنے جا رہے ہیں جو کے بچیوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ گلفام حسین کا کہنا تھا کے ان کورسز کے انعقاد کا مقصد بچیوں کے مستقبل کو سنوارنا ہے کیونکہ آگے چلکر انہوں نے آنے والی نسل کی تربیت کرنی ہے کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے اور اگر ماں کی تعیلم و تربیت اچھی ہو گی تو بچوں کا مستقبل روشن ہو گا۔ طاہرہ حسین کا کہنا تھا کہ ہمارے پرنسپل شیخ احمد دباخ نے ہمیں عملی طور پر سکھایا ہے کہ ہم بچیوں کی تعیلم و تربیت کیسے کر سکتے ہیں اسی علم کو ہم نے بچیوں تک منتقل کیا ہے ان کا مذید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے کشیدہ حالات میں بھی ہم نے طلبہ کی آن لائن تعیلم و تربیت کو جاری رکھا تاکہ وہ گھر فارغ نہ بیٹھیں اسی وجہ سے آج طلبہ کی گریجویشن مکمل ہوئ۔ جامعہ محمدیہ میں تعیلم حاصل کرنے والی طالبہ عائشہ حسین نے کہا کہ عالمہ کلاس میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر خوش ہوں ان کا مذید کہنا تھا کہ عالمہ کلاس سے مشکلات پر قابو پانے بارے تعیلم حاصل کی ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ایسے اساتذہ کی راہنمائی حاصل ہے جنہوں نے ہمیں اپنی ذاتی خواہشات قربان کر کے معاشرے کی بہتری کا درس دیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes