کورونا کے باعث بولٹن میں نئی پابندیاں: چھوٹا کاروباری طبقہ پریشان

بولٹن (فیاض بشیر) انگلش ٹائون بولٹن میں کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافے کے باعث نئی پابندیاں نافذ کردی گئیں جن کے مطابق رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک تمام کاروباری مراکز سمیت ریسٹورنٹ، پب، کلب، ٹیک اوے بند رہیں گے۔ اس سے قبل رہائشیوں کی کچھ سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کیلئے نئے اصول وضع کئے گئے تھے لیکن لگنے والی نئی پابندیوں سے چھوٹا کاروباری طبقہ پریشانی کا شکار ہے۔

دوسری جانب صحت کے سیکرٹری میٹ ہینکوک نے کہا کہ کوشش کی جاری تھی کہ بولٹن کو ایسی پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑےلیکن بدقسمتی سے کئی ہفتوں کی جانچ پڑتال کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ بولٹن برطانیہ کا ایک ایسا ٹائون ہے جہاں کیسوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، انہوں نے کہا انہیں اس بات کا پوری طرح علم ہے کہ عوام پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے لیکن وائرس کو روکنے کیلئے اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا گزشتہ چند ہفتوں سے ایسے اعداد و شمار کا انکشاف ہوا کہ لاک ڈائون جیسے اقدامات کرنا پڑے۔

لاک ڈائون سے قبل بولٹن سائوتھ ایسٹ کی رکن پارلیمنٹ یاسمین قریشی اور بولٹن ویسٹ کے ممبر پارلیمنٹ کرس گرین نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ پورے بولٹن کو لاک ڈائون نہ کیا جائے ایسے علاقوں کا تعین کیا جائے جہاں اعدادوشمار کی شرح سب سے زیادہ ہے اور اس سلسلے میں بولٹن ٹائون سنٹر اور آس پاس کی بڑی شاہرائوں پر الیکٹرانک سائن بھی نصب کئے گئے ہیں کہ بولٹن کو لاک ڈائون نہ کیا جائے لیکن اس کے باوجود لاک ڈائون کردیا گیا جس سے عوام کی ایک بڑی تعداد تجسس اور الجھن کا شکار ہے۔ کونسل نے کہا ہے کہ ایسی پابندیوں پر عمل نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes