انسانی حقوق کی نام نہاد علمبردار آنگ سان سوئی سے ایک اورعالمی اعزاز واپس لے لیا گیا

لندن (کشمیر لنک نیوز) زندگی بھر انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر اعزازات سمیٹنے والی برما کی خاتون رہنما آنگ سان سوئی کے انسانیت سوز احساسات اور جذبات کو جان کر دنیا ان سے ایک ایک کرکے وہ تمام اعزازات واپس لے رہی ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کی مذمت نہ کرنے پر اب یورپی پارلیمنٹ نے بھی آنگ سان سوئی جو آجکل میانمار کلی وزیر خارجہ بھی ہیں سے انسانی حقوق کی سخاروف پرائز کمیونٹی کا عہدہ واپس لے لیا ہے۔ یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں موجود تمام گروپوں کی قیادت پر مشتمل پریزیڈنٹس کانفرنس نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

واضع رہے سخاروف پرائز یورپین پارلیمنٹ کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کیلئے غیر معمولی کام کرنے والی شخصیات یا اداروں کو دیا جاتا ہے۔ یورپین پارلیمنٹ نے اس حوالے سے ممبران پارلیمنٹ، پہلے سے سخاروف پرائز کے حامل افراد اور سول سوسائٹی پر مشتمل ایک ” انٹرنیشنل سخاروف پرائز کمیونٹی” بنا رکھی ہے تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے کام کو مشترکہ طور پر زیادہ بہتر انداز میں کیا جا سکے۔

یورپین پارلیمنٹ نے 1990 میں برما کی اس وقت کی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوئی کو اپنے ملک میں جمہوریت کیلئے قیدوبند کاٹنے پر سخاروف پرائز دیا تھا جس کے ایک سال کے بعد انہیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا۔ یورپین پارلیمنٹ کے نائب صدر ہادی ہاتولہ کے مطابق آنگ سان سوئی ہمارے لئےہمیشہ جمہوریت اور آزادی کی علامت رہی ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ وہ خود حکومت کا حصہ ہیں ،انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ریاستی جرائم پر کبھی بھی آواز بلند نہیں کی بلکہ الٹا ان جرائم کو انجام دینے والے فوجی آپریشن کی حمایت کی۔ اس لئے پارلیمنٹ کی پریزیڈنٹس کانفرنس نے انہیں علامتی طور فی الحال اس کمیونٹی سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes