انگلینڈ کے شہریوں کو کورونا ٹیسٹ کیلئے متعدد دشواریوں کا سامنا

لندن (کشمیر لنک رپورٹ) انگلینڈ کے شہریوں کو کورونا ٹیسٹ کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، شہریوں کو ٹیسٹ کیلئے سیکڑوں میل کا سفر طے کرنا پڑ تاہے ۔ بی بی سی کے مطابق انگلینڈ کے شہریوں کو کورونا ٹیسٹ کرانے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ وزیر صحت میٹ ہنکوک نے ابھی چند روز قبل ہی بتایا تھا کہ کسی کو بھی کورونا ٹیسٹ کرانے کیلئے 75 میل سے زیادہ کا سفرنہیں کرنا پڑے گا لیکن درجنوں افراد نے شکایت کی ہے کہ وہ ٹیسٹ کیلئے بکنگ نہیں کراسکے ہیں۔ ہیلتھ اور سوشل کیئر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کیلئے مرکوز رکھا گیا ہے۔

ٹیسٹ کرانے کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے کم متاثرہ علاقوں میں اپائنٹمٹس کی تعداد کم کرکے زیادہ متاثرہ علاقوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس کی وجہ سے کم متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو بعض اوقات سیکڑوں میل دور بھیجا جارہا ہے لیکن گزشتہ جمعرات کو وزیر صحت نے کہا تھا کہ اس بات کے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں کہ لوگوں کو 75 میل سے زیادہ کا سفرنہ کرنا پڑےاور اس کا اطلاق جمعہ سے ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی حکومت کے بکنگ سسٹم میں پوسٹ کوڈ میں اس کو جاری کردیا گیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دے دیا گیا تھا کہ کسی ٹیسٹنگ سینٹر پر یا گھر پر یہاں تک کہ کورونا کی علامت والے لازمی ورکرز کیلئے بھی کٹس دستیاب نہیں ہوں گی۔ ہیلتھ اور سوشل کیئر ڈپارٹمنٹ کا کہناہے کہ ٹیسٹنگ کی طلب بہت ہے لیکن اگر آپ میں کوئی علامات ظاہر ہوں تو آپ ٹیسٹ کرائیں، نئے بکنگ سینٹرز اور گھریلو ٹیسٹنگ کٹس روزانہ دستیاب ہوں گی۔

نارتھ ویسٹ انگلینڈ کی ایک جی پی میلیسا نے اپنے 7سالہ بچے میں کورونا کی علامات کھانسی اور منہ کا ذائقہ تبدیل ہونے پر اس کے ٹیسٹ کیلئے درخواست دی، جس پر اسے 130 میل دور سندر لینڈ میں ٹیسٹ کا مشورہ دیا گیا، جس کے بعد اس نے اپنے مقامی این ایچ ایس اسٹاف پورٹل کے ذریعے، جو ہیلتھ اسٹاف کی ترجیح کیلئے تیار کیا گیا، درخواست دی، جس پر انھیں 100 میل دور ٹیلفورڈ اور اس کے بعد 200 میل سے زیادہ دور لندن جانے کو کہا گیا لیکن ہوم کٹس دستیاب نہیں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ڈرائونا خواب تھا۔
اس کیلئے مجھے مریضوں، یہاں تک کہ بی بی کلینک میں بھی مریضوں کا براہ راست معائنہ منسوخ کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ این ایچ ایس فیس بک گروپس میں یہ ایک معمول بن گیا ہے، جس کی خود وہ رکن ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ این ایچ ایس اسٹاف موسم سرما کا بوجھ برداشت کرسکے گا۔ ایک علاقے کی ایک ماہر نفسیات، سفولک کی فرانسس اور دیگر بہت سے لوگوں نے بھی اسی طرح کے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ جمعہ کو برطانیہ میں کورونا کے کنفرم مریضوں کی تعداد 3539 ریکارڈ کی گئی جو کہ ایک روز قبل کے مقابلے میں600 زیادہ تھی، اگرچہ برطانیہ میں اب کورونا سے متاثر ہونے والوں کی شرح اپریل کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن ہر 8-7 دن میں ان کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے، نارتھ کے رہائشی لوگوں اور نوجوانوں میں اس کا انفیکشن زیادہ ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes