کورونا کا دوبارہ پھیلاؤ باعث تشویش ہے، اقلیتی کمیونٹیز کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے

مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) برطانیہ میں حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایک بارپھر برطانیہ بھر میں ہونے والےکورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے کے بعد حکومت نے چھ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشنز اینڈ سرجنز برطانیہ کے صدر ڈاکٹر شکیل پوری نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں اقلیتی کمیونیٹیز کو کہا ہے کہ کورونا وائرس کا دوبارہ پھیلاؤ باعث تشویش ہے ان کا مذید کہنا تھا کہ میرا برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی کو پیغام ہے معمولات زندگی بحال ہوئے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وبا ابھی بھی موجود ہے اور اس کی توقع بھی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں نزلہ زکام کھانسی اور چھاتی میں انفیکشن ہونا عام ہے اسکے علاوہ ذیابیطس ، سرطان جیسی موذی مرض ،دل اور دمہ اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا مریضوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے زیادہ خطرہ ہے ان مریضوں کو جنرل پریکٹیشنر اور حکومت کی ہدایات کے مطابق اپنے معمولات زندگی سر انجام دینے چائیں اور جب تک موسم سرما گزر نہیں جاتا اس پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص اپنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ممکن ہے اقلیتی کمیونیٹیز کے اندر کورونا وائرس کی وجہ سے شرح اموات میں دربارہ اضافہ نہ ہو جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت کرنی ہے اور اسکے پیغام کو جتنا ممکن ہو آگے پہنچائیں تاکہ کمیونٹی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes