کووڈ 19؛ اکتوبر اور نومبر کے مہینے یورپ کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں: عالمی ادارہ صحت

لندن (اکرم عابد) یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے خبردار کیا ہے کہ اگلے دو ماہ یعنی اکتوبر اور نومبر میں یورپ بھر میں کورونا کیسز میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا ان مہینوں میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد اپریل میں یومیہ تعداد سے بھی زیادہ ہے جب یورپ میں وبا کی شدت تھی۔ برطانیہ میں بھی کیسز کی تعداد بڑھنے سے اکثر جگہوں پر نئی پابندیاں متعارف کرائی جارہی ہیں۔
اگرچہ یورپ میں کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں مگر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ مگر عالمی ادارہ صحت کے مطابق کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے آئندہ دنوں میں ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں۔
اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ہانس کلوگ نے کہا کہ یہ ایسا وقت ہے کہ کئی ممالک بری خبر سننا نہیں چاہتے۔ ہم ان کی یہ خواہش سمجھ سکتے ہیں۔

ہانس کلوگ کا کہنا تھا کہ وہ بھی مثبت خبر دینے پر زور دیتے ہیں مگر حقیقت میں یہ وقت کبھی نہ کبھی ختم ہو گا۔ یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے 50 رُکن ممالک پیر اور منگل کو آن لائن اجلاس کر رہے ہیں جس میں کرونا وائرس کے خلاف ردعمل کے لیے اگلے پانچ برس کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں یہ ہر وقت سنتا ہوں کہ ویکسین آنے سے وبا ختم ہو جائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ویکسین آنے کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم یہ نہیں جانتے کہ ویکسین ہر فرد کے لیے یکساں کارآمد ہو گی۔ ہمیں اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ ویکسین کسی گروہ کے لیے مفید ہو گی اور دوسروں کے لیے نہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عالمی وبا کا اختتام تب ہو گا جب ہم اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے۔

50% LikesVS
50% Dislikes