عالمی دبائو؛ چین نے یورپی مبصرین کو سنکیانگ کا دورہ کرنے کی دعوت دے دی

لندن (کشمیر لنک نیوز) بڑھتے ہوئے عالمی پریشر کی وجہ سے چین نے یورپی مبصرین کو دعوت دی ہے کہ وہ جب چاہیں ایغور جاکر وہاں کے لوگوں کی حالت زار ملاخطہ کرسکتے ہیں۔ واضع رہے گذشتہ کچھ عرصے سے برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک کے پارلیمنٹیرینز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایغور کے مسلمانوں کی حالت زار پر آواز بلند کررکھی تھی۔
برطانوی پارلیمنٹ میں برمنگھم کی ممبر پارلیمنٹ شبانہ محمود نے جاری سیشن پر اس حوالے سے اعتراض بھی اٹھایا تھا اور ایغور کے لوگوں سے اظہار ہمدردی کیا تھا۔

اس تمام صورتحال کے پیش نظر چین نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے مبصرین صورتحال کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ کا دورہ کرنے میں آزاد ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ ایغور مسلمان سیاسی ری ایجوکیشن کیمپس میں رکھے گئے ہیں جبکہ زبردستی انضمام کی مہم میں بڑے پیمانے پر ایغوروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایغوروں کے حقوق کے حوالے سے چین پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے اور پیر کو یورپی یونین نے چین سے کہا تھا کہ وہ یونین کے آبزرورز کو سنکیانگ کا دورہ کرنے دیں۔ بلکہ یونین نے مستقبل میں چین کے ساتھ کسی بھی تجارتی یا سرمایہ کاری کے معاہدے کو انسانی حقوق کی پاسداری سے نتھی کر دیا۔

چین کے وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے سنکیانگ کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور چین پہلے سے ہی اس حوالے سے رضامندی کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے انتظامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی یونین کے وفد کو سنکیانگ کے دورے پر خوش آمدید کہا جائے گا تاکہ وہ خطے کی صحیح صورتحال کو سمجھ سکیں نہ کہ سنی سنائی باتوں پر کان دھریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes