یورپین مسلم خواتین کے حقوق کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا: ای یو کمشنر برائے مساوات

برسلز (کشمیر لنک نیوز) یورپی مسلم خواتین کو وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور یہ ایک ایسا ایشو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اسکا سدباب کرنے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار یورپین یونین کی کمشنر برائے مساوات ہیلینا ڈالی نے یورپین پارلیمنٹ کے انٹرا گروپ برائے انسداد نسلی امتیاز و تنوع اور فورم آف مسلم یوتھ اینڈ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز کے زیر اہتمام منعقدہ ایک آن لائین کانفرنس میں کیا۔

ہیلینا ڈالی کا مزید کہنا تھا کہ مسلم خواتین کو اکثر ایک خاص طرح کے صنفی اسلامو فوبیا سے گزرنا پڑتا ہے جہاں انہیں جنس،نسل اور مذہب کی بنیاد پر نسلی امتیاز کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انکا ماننا تھا کہ یہ امتیازی سلوک نام اور لباس سے آگے بڑھ کر کئی اور پرتیں بھی رکھتا ہے جہاں ان خواتین کو سماجی اور معاشی رتبے پر پرکھا جاتا ہے۔ جو ان کے آزادانہ کام کرنے اور اپنے آپ کو سماج میں جس طرح وہ چاہیں، آگے بڑھانے کی راہ میں سخت رکاوٹ ہے ۔
ای یو کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اس سماجی پسماندگی اور علیحدہ کر دینے والی سوچ کے خلاف فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں جنگی بنیادوں پر مسلم خواتین کو وہ مدد فراہم کرنا ہوگی جہاں وہ مکمل آزادی اور خود مختاری کے ساتھ ہر اس شعبے کو اختیار کرسکے جسے وہ کرنا چاہے۔
انکا کہنا تھا کہا کہ 2019 میں’’یورپ میں امتیازی سلوک کی موجودگی‘‘ کے بارے میں منعقد ہونے والے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یورپ میں ہر 10 میں سے 3 افراد کسی مسلمان کولیگ کی موجودگی میں اچھا محسوس نہیں کرتے جب کہ آدھے یورپین شہری یقین رکھتے ہیں کہ ان کے ممالک میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر کیا جانے والا نسلی امتیاز موجود ہے ۔


سیمینار سے دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مسلم خواتین کے خلاف یورپ میں موجود نسلی امتیاز کے خاتمے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہینگے۔

50% LikesVS
50% Dislikes