صحافت ایک ایماندار پیشہ ہے اُسی صحافی کا نام زندہ رہے گا جو سچی صحافت کرے گا؛ مقررین

فرینکفرٹ (کشمیر لنک نیوز) کالم کہانی ایک ایسا خوبصورت تحفہ ہے جس کا انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ ہمارے وہ بچے جو یہاں پیدا ہوئے وہ اسے پڑھیں اور مقامی یورپین صحافتی حلقوں میں بھی متعارف ہوسکیں، ان خیالات کا اظہار جرمنی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے معروف صحافی اور ادیب مرزا روحیل بیگ کے کالموں کے مجموعے کی تقریب رونمائی میں کیا۔
کالم کہانی کی تقریب رونمائی کا اہتمام پاکستان جرمن پریس کلب نے کیا صدارت کلب کے بانی سلیم پرویز بٹ نے کی جبکہ مہمان خصوصی سفیر پاکستان تھے، پاکستان قونصلیٹ فرینکفرٹ سے قونصلر جنرل زاہد حسین بھی رونق محفل تھے۔

تقریب کی نظامت معروف مذہبی اسکالرشاعرہ طاہرہ رباب نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صاحب کتاب کو کالموں کا ایسا خوبصورت مجموعہ شائع کرنے پر مبارکباد دی۔
معروف شاعر ارشاد ہاشمی نے مرزا روحیل بیگ کی شخصیت اور کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کالم کہانی کی تحریروں میں پاک، جرمن تعلقات کا خوبصورتی سے احاطہ کیا گیا ہے۔پاکستان ایسوسی ایشن جرمنی کے صدر وجیہ الحسن جعفری نے کہا کہ ادیب قوموں کے معمار ہوتے ہیں،تاریخ رقم کرتے ہیں،صحافت ایک ایماندار پیشہ ہے اُسی صحافی کا نام زندہ رہے گا جو سچی صحافت کرے گا،سچی تحریریں ذہنوں میں نقش ہو جاتی ہیں بے تکی تحریروں کو چند لمحوں بعدانسان فراموش کر دیتا ہے۔

قونصلر جنرل زاہد حسین نے اپنے خطاب میں کتاب کی اشاعت پر روحیل بیگ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انٹر نیٹ کے اس دور میں کالم کہانی کتاب کے کلچر کو فروغ دینے کا باعث بنے گی،کتاب میں موجود کالم پاکستان اور جرمنی کے تعلقات اور دیگر اہم موضوعات کا احاطہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کالم کہانی کے مصنف روحیل بیگ نے تقریب کے اہتمام پر منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کتاب کو اہل علم و دانش کا ہتھیار مانا جاتا ہے ،نوجوانوں کو علم کی دولت سے فیض یاب کرنے میں جو کردار کتاب ادا کرتی ہے اس کا احاطہ انتہائی مشکل کام ہے ،کالم کہانی میرا حوالہ بھی ہے اور میرا تعارف بھی ،کوئی اس سے فائدہ اٹھا لے ،روشنی پا لے تو یہ میری خوش نصیبی و خوش بختی ہو گی۔
آخر میں پاک جرمن پریس کلب کے بانی سلیم پرویز بٹ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes