ٹرافالگر سکوائر مظاہرین کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والی مسلمان پولیس آفیسر نسل پرست حملوں کی زد میں

لندن (عدیل خان) حکومتی پالیسیوں سے نالاں عوام کا ایک جم غفیر تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لےرہا تھا، حکومت کے خلاف نعرے لگاتے اور ہر چیز کو توڑ دینے کے درپے برطانوی دارالحکومت لندن کے تاریخی ٹرافالگر سکوائر پر اکٹھے یہ سینکڑوں لوگ انتہائی غصے میں تھے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے افسران نرمی کیساتھ ساتھ سختی بھی برت رہے تھے جس سے کئی ناتواں مظاہرین زخمی ہوچکے تھے، پولیس کا بیانیہ تھا کہ کورونا کے پیش نظر مظاہرین فوری منتشر ہوں اور مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید پابندیاں برداشت نہیں۔

متعدد زخمیوں میں خواتین بھی شامل تھیں اور برطانوی میڈیا یہ مناظر لائیو دکھارہا تھا جسکی وجہ سے عوام ردعمل مزید سخت ہوتا جارہا تھا۔ ایسے میں اچانک سب کی نظریں پولیس کے اس مزاحمتی دستے کی طرف اٹھ جاتی ہیں جہاں ایک چھوٹے قد کی نوعمر باحجاب لڑکی پوری تندہی سے بپھرے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک رہی تھی۔

یہ باحجاب پولیس آفیسر دیکھتے ہی دیکھتے سب کی نظروں کا مرکز بن گئی اور تھوڑی ہی دیر میں مظاہرین کا ابلتا ہوا ہجوم منتشر ہوگیا، یقینی طور پر ایسا اس لڑکی کی وجہ سے نہیں ہوا تھا لیکن پولیس کی بھرپور کاروائی میں بلاشبی اسکا بھی برابر کا حصہ تھا۔
برطانوی میڈیا نے جہاں اس بہادر بحجاب لڑکی کی تعریف کی وہیں شتر بے مہار سوشک میڈیا پر اسے طرح طرح کی باتیں کی گئیں۔ کسی کا کہنا تھا کہ اسے جان بوجھ کر آگے لاکر دہشت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی اور کسی کا تبصرہ تھا ہمیں مارا جارہا تھا کہ احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں اور اس لڑکی نے ماسک تک نہ پہن رکھا تھا۔

اس کے جواب میں بہت سے لوگوں نے اس باحجاب پولیس آفیسر کی ہمت کی داد دی اور لکھا کہ آپ سب کو اس پر صرف اسلیئے اعتراض ہورہا ہے کہ وہ مسلمان ہے جبکہ آپ کو اسکے پیشہوارانہ انداز اور اسکی بہادری کو دیکھنا چاہیئے جو وہ اپنے ملک برطانیہ کیلئے دکھا رہی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes