برطانیہ کا ایسیشن جزیرے پر اسائلم سینٹر بنانے پرغور؛ تارکین وطن میں تشویش کی لہر

لندن(کشمیر لنک رپورٹ) برطانیہ سے 5 ہزار میل دور Ascension جزیرے پر اسائلم سینٹر بنایا جائیگا،پناہ کی غرض سے مختلف ممالک سے آنے والوں کوبرطانیہ میں داخلے سے روکنے کیلئے Ascensionجزیرے پر اسائلم سینٹر بنانے پرغورکیا جا رہا ہےایک ذریعے کےمطابق بحر اوقیانوس میں برطانوی علاقے میں پناہ گزینوں کی درخواستوں کی پراسیسنگ کیلئے ایک سینٹر بنانے پر غور ہورہاہے ،ذریعے کے مطابق پناہ گزینوں کوبرطانیہ سے دور رکھنے کے معاملے پر غور تو کیاجارہاہے لیکن اصل چیز اس مقصد کیلئے موزوں مقام کا انتخاب ہے ۔

ایک ذریعے کے مطابق وزیر داخلہ پریٹی پٹیل نے حکام سے دوسرے ممالک کی کامیاب اسائلم پالیسیوں کامطالعہ کرنے کی ہدایت کی ہے ،فنانشیل ٹائمز کا کہناہے کہ برطانیہ سے5,000 میل دور Ascensionجزیرہ اسائلم سینٹر بنانے کیلئے زیادہ موزوں نظر آتاہے،ہوم آفس کے ایک ذریعے کے مطابق وزرا چھوٹی کشتیوں میں پناہ کی امید پر برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے اوراسائل سسٹم کو فکس کرنے کیلئے تمام آپشنز زیر غور ہیں ،تحفظ کے ضرورت مندوں کو پناہ دینے کے حوالے سے برطانیہ کا ماضی بہت شاندار رہاہے ،لاکھوں افراد نے برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کے بعد از سرنو اپنی زندگی استوار کی ہےوزرا کاکہناہے کہ ہم مستقبل میں بھی لوگوں محفوظ اور قانونی راستہ دیتے رہیں گے۔

وزرا کا کہنا ہے کہ ہم غیرقانونی مائیگریشن اورپناہ کی روک تھام کے حوالے سے پا لیسیوں اورقانون میں اصلاحات کیلئے منصوبہ بندی کررہے ہیں، تاکہ ہم اس سسٹم سے غلط اورناجائز فائدہ اٹھانے کی کوششوں کاسدباب اور حقیقی معنوں میں ضرورت مندوں کو تحفظ فراہم کرسکیں۔تاہم اس حوالے سے ابھی طورپر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے ،اطلاعات کے مطابق ستمبر میں شام کی جنگ سے فرار ہوکرگزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مائیگرنٹس برطانیہ پہنچے ،لیبر پارٹی کے شیڈو وزیر نک تھومس کاکہناہے کہ حکومت کا یہ آئیڈیا مضحکہ خیز اورقطعی ناقابل عمل ہےاور اس پر بہت زیادہ اخراجات آئیں گےتاہم قوی امکان ہے کہ ٹوری حکومت اس پر عمل کرے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes