اوورسیز کمیونٹی رہنمائوں کا پاکستان سفر کرنے کیلئے کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دینے پر سخت ردعمل

گریٹر مانچسٹر (محمد فیاض بشیر) برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے حکومت پاکستان کے ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان کی جانب سے 5 اکتوبر سے دسمبر تک پاکستان سفر کرنے والے مسافروں کو کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی قرار دینے پر سخت خفگی کا اظہار کیا ہے۔
کمیونٹی سخت تذبذب کا شکار ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے ہی چھٹیوں میں خاندان سمیت پاکستان سفر کرنے کے لیے ائیر لائنز ٹکٹ کی قیمت میں نمایاں اضافہ کر دیتے ہیں اور اگر برطانیہ سے پرائیویٹ کورونا ٹیسٹ کروایا تو سو سے زائد پونڈز فی کس قیمت ہو گی جو انتہائی ظلم ہے حکومت برطانیہ میں بسنے والی کمیونٹی کی سہولت کے لیے فی الفور اقدام کرے۔

سابق میئر اولڈہم عتیق الرحمان، ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمن بیرسٹر امجد ملک اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ایڈوائیزر اوورسیز راجہ مقصود حسین نے کشمیر لنک لندن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوئی ایسا انتظام کرے جس سے پاکستان ہائی کمیشن لندن اور قونصلیٹس میں کورونا ٹیسٹ کے ذریعے کم لاگت میں کورونا ٹیسٹ ممکن ہو سکے۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ نیشنل ہیلتھ سروس برطانیہ ہمیں مفت ٹیسٹ کی سہولت بھی دیتی ہے اس ٹیسٹ رزلٹ کو بھی قبول کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا تو ممکن ہے لوگ خاندان سمیت اس سال پاکستان چھٹیاں گزارنے نہ جائیں جس سے سیاحت کو فروغ دینے میں نقصان ہو گا۔

ان کمیونٹی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہم برطانیہ میں بسنے والے پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور آج ہمیں اسکا صلہ یہ مل رہا ہے کے پاکستان نے کورونا وائرس کے حوالہ سے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے برطانیہ سے آنے والے پرائیوٹ کرونا وائرس ٹیسٹ کروا کر سرٹیفکیٹ ساتھ لیکر آئیں اسکے لیے ہمیں کرایہ کے علاوہ اضافی 150£ ٹیسٹ کروانے کے لیے دینے پڑیں گے حالانکہ ابھی تک جو لوگ بھی برطانیہ سے پاکستان کا سفر کر رہے ہیں وہ نیشنل ہیلتھ سروس سے مفت ٹیسٹ کروا کے اسکا رزلٹ ساتھ لیکر جا رہے ہیں ہم اس ظلم و زیادتی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے فی الفور اس مسئلے کو حل کیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes