پیرس فلم فیسٹول میں پاکستان کے برف پوش پہاڑوں پر فلمائی گئی دو فلموں کی زبردست پذیرائی

پیرس (کشمیر لنک نیوز) خوبصورت پہاڑوں، دریائوں اور سرسبز میدانوں کے ملک پاکستان میں جب کوئی سیاح آتا ہے تو اسکی قدرتی خوبصورتی میں کھو کر رہ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں یہاں بننے والی دستاویزی فلمیں دنیا بھر کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں۔ ان حقائق کو عملی طور پر پیرس کے فلم فیسٹیول میں بخوبی دیکھا گیا جہاں پاکستان کے اونچے پہاڑی علاقوں میں پیرا گلائیڈرز کی مہم پر مبنی دو دستاویزی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی گئیں۔

پیرس کے گرینڈ ریکس سنیما میں میلے کا سمر ایڈیشن بھی ہوا۔ 30 منٹ کی ایک دستاویزی فلم’’ قراقرم میں گم ‘‘جو پاکستان کے قراقرم حدود میں پیرا گلائیڈنگ سے متعلق ہے، ڈیمین لاکاز ، انٹائن گیارارڈ اور جریمی چنال کی ہدایتکاری میں بنائی گئی دستاویزی فلم میں اس علاقے کو دنیا کے خوبصورت پہاڑی مقامات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

یہ فلم فرانسیسی پیرا گلائیڈرز کی 7027میٹر اونچی اسپانٹک چوٹی پر چڑھنے کی کوشش پر مبنی تھی۔
دوسری دستاویزی فلم جس کا عنوان’ آخری ماؤنٹین‘ ہے، اس کی مدت 83منٹ ہے۔ ڈارس زلوسکی کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم پولش کوہ پیمائوں کی 2018میں کے 2 مہم پر مبنی ہے۔ دستاویزی فلم میں بتایا گیا کہ کے ٹودنیا کی واحد 8000 میٹربلند چوٹی ہے جو سردیوں میں کبھی سر نہیں ہوسکتی۔

اس چیلنجنگ مہم کے دوران پولش ٹیم کے جوڑے اور ایک فرانسیسی کوہ پیما الزبتھ ریول اور اس کی پولش ٹیم کے ساتھی کو بچانے کے لئے گئے تھے جو قریبی نانگا پربت پر پھنس گئے تھے۔
دستاویزی فلموں کی نمائش کے موقع پرسفارتخانہ پاکستان کی نمائندگی ڈپٹی ہیڈ آف مشن ایم امجد عزیز قاضی نے کی۔ ایم امجدعزیز قاضی نے میلے کی منتظمین منان گریم ووڈ اور سیرل سلومون کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور کہا کہ پاکستان دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا پاکستان کا دورہ کرنے پر خیرمقدم کرتا ہے جسے مہاکاوی مناظر اور چیلنجنگ پہاڑی چوٹیوں کے ساتھ تحفہ دیا جاتا ہے۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ پاکستان فرانسیسی کوہ پیماؤں کے لئے ایک کلیدی منزل ہے اور لوگ اس خوبصورت مقامات اور خوبصورت پہاڑوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلمیں سوئٹزرلینڈ ، ڈنمارک اور جمہوریہ چیک میں بھی اسی فلمی میلے کے ایک حصے کے طور پر دکھائی گئی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes