پاکستانی نوجوان کا لندن میں منفرد ریسٹورنٹ جو سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے

لندن (کشمیر لنک نیوز) اس امر میں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستانی نوجوانوں میں تیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہ وطن عزیز میں کھل کر اپنی صلاحیتوں کے جوہر نہیں دکھاسکتے لیکن جیسے ہی انہیں بیرون ممالک میں کہیں موقع ملے تو یہ ایسا کام کرجاتے ہیں کہ وہاں کے مقامی لوگ بھی داد دیئے بغیر نہیں رہ پاتے۔
پاکستانی نوجوان طیب شفیق بھی ایسے ہونہار افراد میں سے ایک ہے جو لاہور سے حصول تعلیم کیلیئے لندن آیا اور تعلیم کیساتھ ساتھ باعزت روزگار کا سوچتا رہا بالآخر ایک دن اس نے اپنے سوچوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے برٹش آئیکون ریڈ ٹیلی فون بوتھ کو چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں تبدیل کرلیا۔

جی ہاں اس نوجوان نے لندن کے3 استعمال شدہ ریڈفون بوتھس ریڈکیوسک کمپنی سے کرائے پر حاصل کرکے آکس برج اسٹیشن پر ہائی وے اسٹریٹ پر دنیا کے سب سے چھوٹے ٹیک اوے ریسٹورنٹس کھول لئے جس میں لذیذ پاکستانی کھانے پیش کئے جاتے ہیں۔
برطانیہ سے کوالیفائیڈ مکینیکل انجینیئر ہونے کیساتھ ساتھ وہ پورے برطانیہ میں اس طرح کے ٹیک اوے ریسٹورنٹس کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس بزنس کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ یہاں رہائش کے دوران انہیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ پاکستانی کھانے لذیذ ہونے کے باوجود اتنا نام نہیں رکھتے جتنا انڈین کھانوں کا ہے اسلیئے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ پاکستان کا نام بنانے کیلیئے پاکستانی کھانوں کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے۔
انکا کہنا تھا کہ میں یہاں بھارتی کھانوں کی طرح لوگوں کوپاکستانی کھانوں کی ترغیب دینا چاہتا ہوں، ریسٹورنٹ کے مالک کی حیثیت سے میں انتہائی ماہرانہ طریقے سے پاکستان کی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہوں۔ طیب پاکستانی اور بھارتی ذائقے میں فرق رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ریڈ ٹیلی فون بوتھس کو نئی شکل دے منفرد وینچر شروع کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ برطانیہ میں پاکستانی بہت ہیں، اس لئے میں ایسا کاروبار کرنا چاہتا ہوں جس سے برطانیہ میں پاکستانی ثقافت کی نمائندگی ہو، میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کومستحکم کرنا چاہتا ہوں، خاص طور پر بریگزٹ کے بعد، کیونکہ اب برطانیہ نئے تجارتی پارٹنر تلاش کر رہا ہے۔
وہ کھانوں کو تازہ اور گرم رکھنے کیلئے کھانا گرم رکھنے کا بجلی کا ڈیوائس استعمال کرتے ہیں، ان کے فون بوتھ پاور سپلائی سے ملے ہوئے ہیں، تینوں فون بوتھ ایک پاس ورڈ پنچنگ پیڈسے جڑے ہوئے ہیں۔
طیب کا کہنا ہے کہ یہ جگہ بہت ہی چھوٹی ہے اور وہ اس میں کسی طرح فٹ ہونے کی کوشش کررہے ہیں تاہم یہی اس ریسٹورنٹ کی خوبصورتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، آپ یہاں سے صرف ٹیک اوے کرکے اپنی جگہ پر جا کر کھانے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes