برٹش پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر، پاکستان جانے کیلئے سرکاری ادارے کا کورونا ٹیسٹ قابل قبول

لندن (اکرم عابد) پاکستان ہائی کمیشن لندن نے برطانیہ میں آباد کمیونٹی کے خدشات کو دور کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کردی ہے کہ این ایچ ایس سے کروایا گیا کورونا ٹیسٹ پاکستان جانے کیلئے قابل قبول ہے۔ ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو باہر سے وطن عزیز آنے والوں سے صرف COVID-19 RT-PCR ٹیسٹ درکار ہے جو کہ منفی ہونا چاہیئے۔ حکومت کو اس امر سے کوئی غرض نہیں کہ وہ ٹیسٹ کسی پرائیویٹ لیبارٹری سے ہوا یا سرکاری ادارے سے۔

واضع رہے پانچ اکتوبر سے لاگو ہونے والے لازمی ٹیسٹ کے بعد برطانیہ میں رہنے والے اس مخمصے کا شکار تھے کہ آیا یہاں نیشنل ہیلتھ سروسز کے ذریعے ہونے والا مفت ٹیسٹ بھی قابل قبول ہوگا یا پرائیویٹ لیب سے ہی کرانا ضروری ہے جس کا خرچہ ڈیڑھ سو پائونڈز سے لیکر چھ سو پائونڈز تک ہے، تاہم اب پاکستان ہائی کمیشن نے وضاحت کردی ہے کہ برطانیہ والے پاکستان جانے کیلیئے این ایچ ایس کا COVID-19 RT-PCR ٹیسٹ استعمال کرسکتے ہیں۔

قبل ازیں سمندر پار پاکستانیوں کے مشیر برائے وزیر اعظم زلفی بخاری نے بھی اپنے مختصر دورہ برطانیہ میں اسکی تصدیق کی تھی لیکن واضع نہ ہونے کیوجہ سے لوگ پریشانی کا شکار تھے۔ زلفی بخاری نے کہا تھا کہ برطانیہ سے پاکستان آنیوالے مسافروں پر کسی مخصوص ادارے سے کورونا ٹیسٹ کرانے کی شرط عائد نہیں ہو گی وہ کسی بھی تصدیق شدہ ادارے سے ٹیسٹ کرواسکتے ہیں۔

کورونا کی دوسری لہر کے باعث مختلف ممالک میں کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے، اس کے پیش نظر حکومت پاکستان نے برطانیہ سے پاکستان آنیوالے مسافروں کیلئےکورونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے جسکا اطلاق پانچ اکتوبر سے ہوچکا ہے۔
پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ مسافروں کے لیے کورونا ٹریکنگ موبائل ایپ انسٹال کرنا لازمی ہوگا، مسافر ملک سے باہر جائیں یا واپس وطن آئیں، موبائل ایپ لازم ہوگی۔

مسافر سفر سے پہلے پاس ٹریک موبائل ایپ یا ویب سائٹ پر اپنا کورونا سے متعلق ڈیٹا اپ لوڈ کریں گے، موبائل ایپ کے ذریعے مسافروں کی قرنطینہ کے دنوں میں نگرانی کی جائے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes