غیر ظاہر شدہ اثاثوں کی ضبطگی کے قانون یو ڈبلیو او کا نیا شکار، مانی دس ملین پائونڈز دینے پر آمادہ

لندن (کشمیر لنک نیوز) برطانیہ میں انڈکلیئرڈ ویلتھ آرڈر کا نفاذ ہوا تو شائد بہت سے جرائم پیشہ افراد کے گمان میں بھی نہ ہوگا ملک کے چھ بہترین پیشہ وارانہ ادارے کس باریکی بینی سے اس قانون پر عمل کرتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرینگے۔ اس آرڈر سے قبل عمومی تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ خوب ناجائز دولت کمائیں اور پکڑے جانے پر مہنگے ترین وکیل کرکے سرخرو رہیں لیکن اس آرڈر نے ایسی پابندیاں عائد کردی ہیں کہ کوئی مجرم قانونی سقم کا سہارا لینے کے قابل نہیں رہا۔

گو ابھی برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) ساتھی اداروں کیساتھ مل کر خاطر خواہ کیسز نہیں پکڑ سکی لیکن جو پکڑے ان سے مال مسروقہ برآمد کرکے چھوڑا چاہے مجرم اعلیٰ عدالتوں کے دروازے پر بھی گئے جیسا کی 2018 میں ای ای اے کے ایک ملک کے بینکر کی بیوی کیساتھ ہوا جو اس آرڈر کے تحت ریلیف لینے کیلئے کورٹ جانے والی پہلی خاتون تھی مگر اسے بھی منہ کی کھانی پری۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک کیس میں لیڈز کے بزنس مین نے اپنے اپارٹمنٹس، گھر اور بیش قیمت گاڑیاں نیشنل کرائم ایجنسی کےحوالے کر دیئے، اس نے یہ سب جرائم پیشہ افراد کی معاونت سے کمایا تھا۔

این سی اے نے بتایا کہ منصور محمود حسین گینگسٹرز بشمول قاتلوں اور منشیات فروشوں کے لئے کام کرتا تھا۔ ایجنسی کو یقین تھا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل منافع سے پراپرٹی ایمپائر قائم کی گئی تھی۔
مسٹر حسین جو کہ مانی کے نام سے معروف تھا نے دودہائیوں میں اپنی شناخت ویسٹ یارک شائر، چیشائر اور لندن بھر میں قائم کر لی تھی جبکہ وہ خود کو ایک قانونی بزنس مین کی حیثیت سے پیش کرتا تھا۔ اس کے سوشل میڈیا اکائونٹ سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک پر تعیش زندگی گزار رہا ہے، جس میں ہائی پرفارمنس کاریں، ایگزیکٹیو جیٹس، سپر بوٹس اور ایسے وی آئی پی ایونٹس میں اس کی شرکت شامل ہے۔

اس نے اپنی ٹائم لائن مشہور شخصیات کی تصاویر سے بھر رکھی تھیں جبکہ ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ وہ شخصیات اسے جانتی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس پر کبھی بھی فرد جرم عائد نہ کی جاسکی تھی حالانکہ پولیس کو اسکے خطرناک گینگسٹرز کیساتھ روابط کا علم تھا۔ ان انہیں یو ڈبلیو او کے تحت انہیں ایسی دولت رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات مل گئے جو اپنی دولت بارے وضاحت دینے میں ناکام ہوں کہ کہاں سے آئی اور کیسے آئی۔ ان اختیارات کے تحت بزنس مین کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ حساب کتاب مرتب کرے اور یہ بتائے کہ اس کے پاس یہ دولت کن قانونی ذرائع سے آئی ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس قانونی شکنجے میں آنے کے بعد منصور محمود حسین اب کیس میں اپنے دفاع سے دست بردار ہو گیا ہے اور ایک سیٹلمنٹ پر آمادہ ہوگیا ہے جس میں اس نے اپنی پراپرٹی کی سلطنت، جس میں 45 پراپرٹیز، اپارٹمنٹس، دفاتر اور گھر شامل ہیں، این ایچ اے کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 10 ملین پونڈز بنتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes