برطانیہ کے پاسپورٹ فوٹو چیکر کا رنگدار خواتین کیساتھ متعصبانہ سلوک

لندن (کشمیر لنک رپورٹ) برطانیہ کے پاسپورٹ فوٹو چیکر کے بارے میں سفید فام کے مقابلے میں رنگدار خواتین کے ساتھ متعصبانہ رویئے کی بہت زیادہ شکایات سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی کی تفتیش کے مطابق فوٹو چیکرنے سفید فام جلد والی خواتین کے مقابلے میں دگنی تعداد میں رنگدار خواتین کی آن لائن دی گئیں تصاویر یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ ان کی تصویر برطانیہ کے پاسپورٹ رولز کے مطابق نہیں ہیں۔

ایک سیاہ فام طالبہ نے کہا کہ اس نے جب بھی اپنی تصویر بھیجی اسے غلط طورپر کہا گیا کہ اس کا منہ کھلا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے حکومت کی ویب سائٹ پر 5 مختلف تصاویر اپ لوڈ کیں لیکن اس کی تصویر ہر مرتبہ رد کردی گئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سسٹیمیٹک نسل پرستی پھیل سکتی ہے۔ ہوم آفس کا کہنا ہے کہ آن لائن فوٹو چیکر سے استفادہ کرنے والوں کو زیادہ جلدی پاسپورٹ مل جاتا ہے۔

ایک خاتون ترجمان نے کہا کہ اس کی چیکنگ سے صارفین کو پہلی ہی مرتبہ درست تصویر اپ لوڈ کرنےمیں مدد ملتی ہے، 9 ملین سے زیادہ افراد یہ سسٹم استعمال کرتے ہیں اور ہمارا سسٹم بہتر ہو رہا ہے، ہم ممکنہ طور پر پاسپورٹ کیلئے درخواست دینے والوں کیلئے طریقہ کار آسان تر بنانے کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کی درخواست سے متعلق ویب سائٹ خودکار طریقے سے خراب معیار کی ایسی تصاویر چیک کرتا ہے جو ہوم آفس کے رولز پر پورا نہیں اترتی، جس میں نیوٹرل تاثر، بند منہ اور براہ راست کیمرے کی طرف منہ ہونا لازمی ہے۔

ریسرچ کے مطابق یہ چیکنگ رنگدار لوگوں کیلئے زیادہ درست نہیں ہے۔ پوری دنیا کے ایک ہزار سے زیادہ سیاستدانوں کی تصاویر آن لائن چیکر میں فیڈ کی ہوئی ہیں، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 22 فیصد رنگدار خواتین سے کہا جاتا ہے کہ ان کی تصویر کا معیار درست نہیں ہے جبکہ صرف 14 فیصد سفید فام خواتین کی تصاویر رد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح 15فیصد رنگدار مردوں کی تصاویر رد کی جاتی ہیں جبکہ صرف 9 فیصد سفید فام مردوں کی تصاویر رد کی جاتی ہیں۔ لندن کی ایک 22 سالہ خاتون Owusu نے بتایا کہ جب انھوں نے ویب سائٹ کے فیصلے کوچیلنج کیاتو ان کی تصویر منظور کرلی گئی جبکہ اس پر لکھا ہوا تھا کہ ان کا منہ بند تھا۔

انھوں نے کہا کہ اگر algorithm میرے ہونٹوں کو نہیں پڑھ سکتا تو یہ میرا نہیں بلکہ سسٹم کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسے سسٹم کی تعریف نہیں کرسکتی جو میرے لئے نہیں بنایا گیا ہے۔ سسٹم ایسا ہونا چاہئے جو سب کیلئے ٹھیک طرح سے کام کرے۔ ایک اور رنگدار خاتون Cat Hallam نے بتایا کہ انھوں نے ایک ہفتے کے دوران 10 مختلف تصاویر اپ لوڈ کیں لیکن ہر مرتبہ اس کا معیار خراب بتایا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں ایک زیر تربیت ٹیکنالوجسٹ ہوں، اس لئے مجھے مصنوعی ذہانت کے بارے میں اچھی طرح معلومات ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ سافٹ ویئر میں خرابی ہے، یہ میرا کیمرہ نہیں ہے، نسلی اقلیتوں پر خودکار سسٹم کے اثرات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آزادی معلومات کے تحت جاری کئے گئے ڈاکومنٹس کے مطابق ہوم آفس اس مسئلے سے آگاہ تھا لیکن مجموعی پرفارمنس بہتر ہونے کی وجہ سے اس آن لائن چیکر کا افتتاح کردیا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes