برطانیہ میں پاپا جونز کی 61فرنچائزز کے مالک کو فراڈ میں تحقیقات کا سامنا: الزامات مسترد

لندن (عمران راجہ) برطانیہ کے ایک مقامی اخبار نے راحیل چوہدری جو برطانیہ میں پاپا جانز کے سب سے بڑے فرنچائزر ہیں پر یہ الزام عائد کیا ہےکہ انہوں نے اگست، ستمبر کے مہینہ میں برطانوی حکومت کی پانچ ہفتہ طویل سکیم ’’ایٹ آئوٹ ٹو ہیلپ آئوٹ‘‘ کے دوران میلز کی مد میں جعلی کلیمز کے ذریعے ڈہائی لاکھ پائونڈز کے فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ راحیل چوہدری نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ایک مقامی اخبار نے یہ الزامات شائع کئے تھے کہ راحیل چوہدری نےاپنے سٹاف کو ریکارڈ ہزاروں بوگس ’’ایٹ آئوٹ ٹو ہیلپ آئوٹ‘‘ انٹریز کی ہدایت کی تھی جبکہ حکومت کی یہ سکیم ٹیکس دہندگان کی فنڈنگ سے چل رہی تھی۔

راحیل چوہدری کے بیشتر ریسٹورنٹس ٹیک اوے یا ڈلیوری کی خدمات فراہم کر رہے تھے، جہاں بیٹھنے کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ اخبار نے الزام عائد کیا کہ راحیل چوہدری کے ریسٹورنٹس یہ پیشکش کرنے کے اہل نہیں تھے، جس کے لئے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر ڈنر کرنا ضروری تھا۔

پاپا جونز کے فرنچائزر راحیل چوہدری نے ان سب الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال دیگر بہت سی انڈسٹریز کی طرح ہاسپیٹلٹی کا شعبہ بھی کورونا وائرس کی پابندیوں سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ میرے 61 فرنچائزیز میں سے 40 میں بیٹھنے کی گنجائش ہے، ہم نے پورے اگست میں پیر سے بدھ تک اپنے تمام 40 سٹورز میں ایٹ آئوٹ ٹو ہیلپ آئوٹ سکیم کے تحت سہولیات فراہم کی تھیں۔ سکیم سے مستفید ہونے والے ہمارے تمام کسٹمرز نے سٹورز میں کھانا کھایا اور ہم پراعتماد ہیں کہ ہم نے برطانوی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تمام احکامات کی تعمیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیم کے تحت ٹوٹل سیلز ہمارے اگست کے ٹرن اوور کا صرف 6 فیصد تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت کی سکیم ختم ہوئی تو ہم نے ستمبر میں اپنی خود کی ڈسکائونٹ آفر متعارف کرائی۔

ہمیں خوشی ہے کہ مشکل وقت میں کسٹمرز نے ہماری پیشکش سے فائدہ اٹھا کر سیونگز کیں اور ہم اپنے کسٹمرز کو ہر ممکن طور پر بہترین ڈیل کی پیشکش جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دائیں بازو کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والے الزامات درست نہیں ہیں، ہم نے اپنے 10 سٹورز میں بیٹھنے کی گنجائش میں اضافہ بھی کیا تھا، جس سے پورے اگست ایٹ آئوٹ سکیم کی ڈیمانڈ کو سپورٹ ملی۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ اخبار میں ایٹ آئوٹ کلیم وائوچر کی مجموعی رقم 250000 پونڈز لکھی گئی ہے جو کہ اصل میں 185015 پونڈز تھی۔ یہ 32 کلیمز یومیہ کے مساوی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اخبار نے ان کے ٹرن برج ریسٹورنٹ پر توجہ مرکوز کی جہاں 13 دن کا مجموعی کلیم 6825 پونڈز تھا (یومیہ اوسط 525 پونڈز) جبکہ وہاں بیٹھنے کی اضافی گنجائش پیدا کی گئی تھی، متصل یونٹ میں 1500 مربع فٹ مین سٹور میں انتظار کے لئے بنچ بنائی گئی تھی۔ راحیل چوہدری نے اس الزام کو قطعی مسترد کر دیا کہ انہوں نے چانسلر کی سکیم کا غلط استعمال کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes