کمیونٹی کیلئے گراں قدر خدمات پر ملکہ برطانیہ کی طرف سے مختلف شخصیات کیلئے اعزازات

مانچسٹر(محمد فیاض بشیر)پاکستان نژاد 62سالہ برطانوی شہرج قیصرشیراز مصنفہ وناول نگار کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (MBE) ایوارڈ سے نوازہ گیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ ایوارڈ ادب ، بین المذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی (فیم نیٹ ورک 4 مانچسٹر ، مسلم یہودی فورم کے ساتھ ملکر کام کرنے آنے والی نئ نسل کو تعلیم اور آگاہی دینے اور اسکے علاوہ مانچسٹر ارینا میں ہونے والے خود کش حملہ سے متاثرین کی مدد کرنے کی خدمات شامل ہیں ۔

یاد رہے قیصرہ شیراز پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں اور جب نو سال کی تھیں تو خاندان کے ساتھ برطانیہ ائیں تھیں انہوں نے پاکستان میں پاکستان ٹیلی ویژن کے مشہور زمانہ ڈرامہ دل ہی تو ہے جو کہ 2003 میں نشر ہوا اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔ ان کی متاثر کن تحریر انتھک سرگرمی اور صنفی حقوق بارے لکھی تحریریں بھی ایوارڈ ملنے کی اہم وجہ تھیں ۔

قیصرہ شہراز ایک انعام یافتہ اور تنقیدی طور پر سراہی جانے والی ناول نگار ، اسکرپٹ رائٹر ، امن کی سفیر ہیں ۔ اپنی زندگی ادب ، تعلیم ، صنفی حقوق اور معاشرتی ہم آہنگی کے لئے وقف کردی ۔

اس کے علاؤہ انہی قومی تنوع ’لائف ٹائم اچیور ایوارڈ‘اور یونیورسٹی آف سیلفورڈ‘الومینی اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملے ہیں۔ پانچ ناولوں کی مصنف اور کہانیوں کا مجموعہ ،بین الاقوامی موضوعات کے ساتھ ساتھ خواتین کی کہانیوں پر بھی کام کرنے کے مجموعے شامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میری کتابوں کے متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور پوری دنیا میں اس کی کتاب ’دی ہولی وومین‘ پڑھی جاتی ہے،اورگزشتہ 15 سالوں سے انڈونیشیا میں سب سے زیادہ فروخت کنندہ ہے۔

مصنفہ قیصرہ شہراز کے مختلف کیریئر میں 30 سالوں کے دوران تعلیم کے شعبے میں کام کرنا نمایا طور پر شامل ہے ،اور انہوں نےبرٹش کونسل ، آفسٹڈ کے ساتھ 19 سال ، اور مانچسٹر ایڈلٹ ایجوکیشن سروس کے ساتھ پچیس سال سے زیادہ ، جو تاحیات تعلیم پر مرکوز ہے۔کی خدمات قابل ستائش ہے۔ ملکہ برطانیہ کی جانب سے حرا حسین کو مظلوم خواتین کی مدد پراور مانچسٹر کونسل کے کونسلر لطف الرحمٰن کو بھی کمیونٹی کی خدمات کے صلہ میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes