ریڈلے میں ماں اور بیٹی کےدہرے قتل کا الزام 51 سالہ شخص پرعائد

برنلے (محمد فیاض بشیر) یکم اکتوبر کو لنکا شائر کےعلاقے ریڈلے میں واقع اپنے گھر میں ڈاکٹر ثمن میر سچاروی اور ان کی 14 سالہ بیٹی ویان منگریو مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔ جن کی لاشیں آگ سے متاثرہ گھر سے ملی تھیں۔ایک شخص کو ماں اور بیٹی کے قتل کے الزام میں چارج کر دیا گیا، لنکا شائر پولیس نے بتایا کہ ربل ایونیو برنلے کے رہنے والے شباز خان پر قتل کے دو مقدمات اور آتشزنی سے زنگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی لاپروائی کا الزام شامل ہے، 51 سالہ شخص کو بلیک برن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

برنلے کی 44 سالہ خاتون کو جمعرات کو انصاف کے راستے میں رکاوٹ اور قتل میں مدد فراہم کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا جو بدستور حراست میں ہے۔ قبل ازیں پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ گردن پر دباؤ کے نتیجے میں ڈاکٹر سچاروی کی موت ہوئی اور ان پر حملہ کیا گیا تھا۔ فورس نے مزید بتایا کہ وبان گھر کے اندر بری طرح جھلس گئی تھی لیکن اس کی موت کی وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔

برطانیہ میں مسیحی عوامی پارٹی کے چیئرمین شفیق الزمان نے برنلے میں خاتون مسیحی ڈاکٹر اور ان کی بیٹی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مرحومہ ڈاکٹر کی کورونا کے دوران بہت سی خدمات ہیں جو ناقابل فراموش ہیں ۔ ایسی نیک دل اور محنتی و فرض شناس خاتون اور ان کی جواں سالہ بیٹی کو قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے – انہوں نے ایک بیان میں مرحومہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی قتل میں ملوث افراد کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ 

50% LikesVS
50% Dislikes