روزے کی حالت میں کورونا متاثرین کیلئے چار لاکھ پائونڈز جمع کرنے والے مسلمان کیلئے او بی ای کا اعزاز

لندن (عدیل خان) برطانیہ ایک ایسا کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں جہاں دنیا کے قریب تمام ممالک کے لوگ ناصرف بستے ہیں بلکہ اسکی تعمیر و ترقی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ایسے افراد کو گرانقدر خدمات پر ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعزازات سے بھی نوازا جاتا ہے۔
لندن میں رہائش پذیر بنگالی نژاد مسلمان دبیر الاسلام چوہدری بھی ان میں سے ایک ہیں۔ رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر کوویڈ 19 افراد کیلئے لاکھوں پائونڈز جمع کرنے والے 100 سالہ دبیر چوہدری کو بھی اس سال ملکہ برطانیہ کے برتھ ڈے آنرز میں او بی ای بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسلامی مقدس مہینے رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر بوو ایسٹ لندن میں اپنے گارڈن میں 970 چکر لگا کر 420000 پونڈ جمع کیے تھے۔

یہ اعزاز ملنے کے بعد اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ انہیں فخر ہے کہ انہوں نے جو کوششیں کیں ان کی اس اعزاز کی صورت میں عزت افزائی ہوئی ہے میں تہہ دل سے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس طرح کا ایک کارنامہ برٹش آرمی کے سو سال ریٹائیرڈ کیپٹن تھامس نے بھی سرانجام دیا تھا جس پر انہیں سر کا خطاب دیا گیا۔ سر ٹام نے این ایح ایس کیلئے بتیس ملین پائونڈز اکٹھے کرکے دیئے تھے۔ سر ٹام اور دبیر کو اعزازات ملنے کے بعد ان دونوں کی ایک آن لائین ملاقات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

ملکہ برطانیہ کی طرف سے اعزاز ملنے کے بعد دبیر الاسلام چوہدری کے صاحبزادے عتیق چوہدری نے کہا کہ ہم بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں ہم جو کام کرتے ہیں ہمیں اپنے اس کام سے اتنی شناخت نہیں ملتی ہے، لہذا یہ میں ان تمام لوگوں کا بے حد شکر گزار ہوں، جنہوں نے میرے والد کی اس کامیابی اور کورونا وائرس کوویڈ 19 کے تمام متاثرین کیلئے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام ابھی ختم نہیں ہوا وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور کوویڈ 19 سے متاثرہ افراد کیلئے رقم جمع کررہے ہیں۔

انکی جمع کردہ رقم چار لاکھ بیس ہزار پائونڈز میں سے 116000 پونڈ این ایچ ایس کو عطلیہ کیے گئے جبکہ باقی رقم 52 ملکوں کی 30 چیرٹیز میں رمضان فیملی کمٹمنٹ ( آر ایف سی) کوویڈ 19 کرائسس انیشی ایٹیو کے تحت تقسیم کی گئی جو کہ برٹش بنگلہ دیٹی ٹیلی ویژن براڈ کاسٹر چینل ایس چلاتا ہے۔
دبیر الاسلام چوہدری یکم جنوری 1920 کو برطانوی آسام جو کہ اب ماڈرن بنگلہ دیش ہے میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1957 میں انگلش لٹریچر کی تعلیم کیلئے لندن منتقل ہوئے تھے۔ وہ سینٹ البانز منتقل ہونے کے بعد کمیونٹی لیڈر بن گئے اور برسوں تک کئی کمیونٹی اور فنڈ ریزنگ پروجیکٹس کے ذمہ دار رہے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں اور ان کی ہزاروں نظمیں شائع ہو چکی ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes