لوٹن؛ کورونا لاک ڈائون کے دوران اجتماعی دعا میں شرکت کرنے والے تین کونسلر سزا سے بچ گئے

لوٹن (کشمیر لنک نیوز) میئر سمیت دو کونسلرز کونسل کی تادیبی کاروائی کا شکار ہونے سے بچ گئے، انکی غلطی کو اندازے کی کوتاہی قرار دیکر کیس ختم کردیا گیا۔ پینل کا کہنا تھا کہ وہ تینوں وہاں سرکاری حیثیت سے نہیں گئے تھے۔ جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا موقف ہے کہ کمپلینٹس پینل کے اراکین کا کہنا تھا کہ انکے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ ان کونسلرز پر پابندی عائد کرسکیں۔

تفصیلات کے مطابق لوٹن بارو کونسل کے کونسلر طاہرملک، کونسلر راجہ وحید اکبر اور کونسلر آصف مسعود چوہدری پر الزامات تھے کہ انہوں نے کورونا کی شدید لہر میں ایس او پیز کی خلادف ورزی کرتے ہوئے ایک ایسے اجتماع میں شرکت کی جہاں انہیں نہیں جانا چاہیئے تھا۔

واضع رہے اڑھائی ماہ قبل بعض افراد کی طرف سے لوٹن بارو کونسل میں ممتاز سماجی شخصیت سید حسین شہید سرور کی طرف سے منعقدہ دعائیہ تقریب کے بارے میں شکایت کی گئی تھی کہ کورونا کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں افراد کا اکٹھ کیا گیا جس کے ساتھ ہی اس موضوع کو انگلش میڈیا نے بھی اپنی خبروں کا موضوع بنالیا۔

اگرچہ اسوقت کے میئر لوٹن کونسلر طاہر ملک نے ان خبروں کی اشاعت کے بعد میئرشپ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا لیکن بارہ اکتوبر کو لیوٹن بارو کونسل نے سید حسین شہید سرور کی طرف سے منعقدہ تقریب میں شریک تینوں کونسلرز کے خلاف کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد سید حسین شہید سرور نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم نے دعائیہ تقریب کے لیے بعض دوستوں کو مدعو کیا تھا اور یہ تقریب ایسے وقت منعقد ہوئی جب کرونا کے لاک ڈاؤن میں نرمی آچکی تھی اور لوگ محدود پیمانے پر تقریبات منعقد کررہے تھے۔ ریسٹورنٹ میں بھی بغیر ماسک کے کھانا کھاسکتے تھے۔ ویسے بھی کھانا ماسک کے ساتھ نہیں کھاجاسکتا۔ یہ تقریب بھی کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی صحت یابی کی دعا کے لیے اور بعض افراد کی وفات پر فاتحہ خوانی کے لیے رکھی گئی تھی اور اس دوران مقررہ قواعد و ضوابط کا خیال رکھا گیا تھا۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ بعض حاسدین نے ہماری تصاویر سوشل میڈیا سے ڈاؤن لوڈ کرکے بڑھا چڑھا کر ہمارے خلاف شکایت کی اور ساتھ ساتھ اس بارے میں خبر کی اشاعت کے لیے میڈیا کو بھی ترغیب دی۔ ہمیں اس بات پر بہت دکھ ہے کہ ہمارے دوست طاہر ملک سابق میئرلوٹن اور دودیگر کونسلرز سابق میئر راجہ وحید اکبر اور آصف مسعود چوہدری کو ان خبروں کی وجہ سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن بلآخر رب کریم نے انہیں اس آزمائش سے نکال کر سرخرو کیا۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ جو لوگ اس دوران ہمارے حوالے سے برا سوچ کر اس کوشش میں شامل ہوئے جس سے ہماری تکلیف میں اضافہ ہوا، ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ رب باری تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔

50% LikesVS
50% Dislikes