احتیاطی تدابیر؛ برطانوی پارلیمنٹ میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی

لندن (اکرم عابد) برطانوی پارلیمنٹ بھی سخت کورونا پابندیوں کی لپیٹ میں آگئی، سپیکر نے پارلیمنٹ ہائوس میں تا حکم ثانی شراب پر پابندی عائد کردی ہے۔
برطانوی دارالعوام کے سپیکر لنزے ہوئیل نے یہ پابندی ایک ایسے وقت میں عائد کی ہے، جب حکومت کی جانب سے تیسرے درجے کے لاک ڈاؤن کے تحت ایسے مقامات اور بارز کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے جہاں کھانا فراہم نہیں کیا جاتا۔

برطانوی دارالحکومت لندن کی بتیس بارو کونسلز سمیت یارک اور ایسکس میں دوسرے درجے کی پابندیاں عائد ہیں۔ ان پابندیوں کے دوران مختلف گھروں میں رہنے والے افراد کا بند جگہوں پر ایک ساتھ جمع ہونا منع ہے۔
تازہ ترین حکومتی ہدایات کے مطابق تیسرے درجے کی پابندیوں کو نافذ کرنے والے علاقوں میں مہمان نوازی سے جڑے سینٹرز میں شراب اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب اس کے ساتھ بڑی مقدار میں کھانا بھی لیا جارہا ہو۔ ان علاقوں میں ابھی تک صرف مرسی سائیڈ کے علاقے شامل ہیں۔

پابندی کے احکامات جاری کرتے ہوئے برطانوی دارالعوام کے سپیکر لنزے ہوئیل کا کہنا تھا کہ کومت کی جانب سے لندن کو کووڈ الرٹ کے دوسرے درجے میں شامل کرنے کے بعد میں نے پارلیمانی حکام کو کہا ہے کہ دارالعوام میں بھی ملکی سطح کے مطابق اقدامات کیے جائیں کیونکہ ہمارے نمائندے ملک کے مختلف حلقوں اور مختلف درجے کی بندشوں کے شکار علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو بلند ترین سطح پر پب کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس حکم نامے کے مطابق آج یعنی ہفتے کے روز سے شراب کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل بعید تک کسی بھی ادارے سے شراب خریدنا ممکن نہیں ہو گا چاہے اس کے ساتھ کھانا فراہم کیا جاتا ہے یا نہیں۔

سپیکر کا مزید کہنا تھا کہ دارالعوام کمیشن کی سوموار کو ہونے والی ملاقات میں اپنی کووڈ سے محفوظ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہم ارکان پارلیمنٹ، ان کے عملے اور دارالعوام کے عملے کو محفوظ رکھنے کے اقدامات پر غور کریں گے۔
واضع رہے اس سے قبل دارالعوام کی کینٹین میں لائسنس یافتہ مقامات کے برعکس ملک بھر میں دس بجے نافذ ہونے والے کرفیو کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جا رہا تھا اور عوام کی جانب سے اس بات پر حکام کے خلاف غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes