مذہب کے نام پر قتل عام دنیا کا قابل نفرت جرم ہے؛ بوسنیائی مسلمانوں کی یاد میں تقریب – Kashmir Link London

مذہب کے نام پر قتل عام دنیا کا قابل نفرت جرم ہے؛ بوسنیائی مسلمانوں کی یاد میں تقریب

لندن (کشمیر لنک نیوز) پچیس سال قبل بوسنیا میں مسلمان ہونے کے جرم میں مارے گئے آٹھ ہزار سے زائد افراد کی یاد میں لندن کے نواحی قصبے تھرک میں ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


تقریب کا اہتمام تھرک کونسل نے کونسلر قیصر عباس کی خصوصی درخواست پر کیا۔ تقریب میں تھرک کونسل کی کیبنٹ ممبر فار کمیونٹیز کونسلر ڈیبرا ہولین، شیڈو کیبنٹ ممبر کونسلر قیصر عباس، مولاناسراج الاسلام، امام رشید ایولا, لی ایگلسٹن اور اس جنگ میں زندہ بچ جانے والے امیر کہیرمنوویک اور میرالہ برزک نے شرکت کی۔
کونسلر ہولین نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ مذہب کے نام پر انسانوں کا قتل عام نا قابل قبول ہے۔ ہمیں اس قتل عام کے متاثرین کو نہیں بھولنا چاہیے اور ہمیں اپنے بچوں کو نفرت اور امتیازی سلوک کے نتائج کے بارے بتانا چاہیے۔


کونسلر قیصر عباس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نفرت اور تفرقہ پھیلانے والے عناصر کے خلاف اکھٹے کھڑا ہونا گا تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ ہم اس قتل عام کے متاثرین کو ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔
مولانا سراج الاسلام نے قران پاک کی تلاوت اور ترجمہ سنایا اور امام رشید ایولا نے مرحومین کے لئے خصوصی دعا کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی رفاعی ادارے کی نمائیندہ لی ایگلسٹن نے اپنے بوسنیا کے دورے بارے بتایا اور ایک خاتون کی دردناک داستان سنائی۔
تقریب میں موجود شرکا کو اس جنگ کے متاثرین کا حال سنایا گیا تو مظالم کی داستان سن کر ہر آنکھ پرنم ہو گئی۔
تقریب میں مرحومین کی یاد میں خصوصی کینڈل جلائی گئی اور متاثرین کو سفید اور سبز رنگ کے پھولوں کا پودا یادگار کے طور پر دیا گیا۔