جذبے امر ہوتے ہیں انہیں موت نہیں آتی – Kashmir Link London

جذبے امر ہوتے ہیں انہیں موت نہیں آتی

چار سال قبل 09جولائی 2016کو مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا جنازہ ہو اکہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں، ایسا جنازہ کبھی پہلے دیکھا نہ آئیندہ دیکھنے میں آئے گا۔یہ آزادی کے جنگ لڑنے والے اس نوعمر سپاہی برہان وانی کا جنازہ تھا کہ جس نے کبھی ہاتھ میں کوئی معمولی سی بندوق بھی نہیں تھامی، وہ تو صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں رقم کی جانے والے ظلم کی داستانیں دنیا تک پہنچاتا تھا لیکن بھارتی قابض فوجیوں نے اسے ایک حریت پسند کمانڈو کہہ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کے جنازے میں دو لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ لوگوں کی برہان وانی سے بے پناہ محبت اور عوامی ردعمل سے خائف بھارتی سیکیورٹی فورسز کا یہ حال تھا کہ جنازے کے ارد گرد دور دور تک کوئی ایک بھی بھارتی فوجی دکھائی نہیں دیتا تھا، سب کے سب محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ گئے تھے۔

عوامی قہر سے بچنے کے لیے ساری وادی میں مکمل کرفیو نافذ کردیا گیا جو 50سے زائد دن جاری رہا لیکن یہ طویل کرفیو بھی لوگوں کے غیض و غضب کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔مغربی میڈیا کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد ساری وادی کشمیر ایسے خوفناک احتجاج کی لپیٹ میں آئی کہ سیکیورٹی فورسز کے لیے اس احتجاج کو روکنا کسی صورت ممکن ہی نہیں رہا۔ بے قابو ہجوم نے سب سے پہلے اس عمارت کو آگ لگائی جس میں برہان نے جان بچانے کے لیے پناہ لی تھی۔ احتجاج کرنے والوں کا خیال تھا کہ عمارت میں رہنے والوں میں سے کسی نے سیکیورٹی فورسز کو وانی کی موجودگی کے بارے میں مخبری کی تھی۔90سے زائد بے گناہ کشمیری اس سانحے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے اور پندرہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔یہ ہلاکتیں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے عوام پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں ہوئیں۔ سیکیورٹی فورسز کے چار ہزار سے زائد لوگوں کے شدید زخمی ہونے کی خبر بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ شاید مودی سرکار کو غلط فہمی تھی کہ گولیوں کی بے دریغ بوچھاڑ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو چھلنی کر دے گی مگر ایسا بالکل بھی نہیں ہوا۔کشمیریوں نے آج 2020میں چار سال بعد بھی معصوم برہان وانی کے ساتھ ہونے والے ظلم کو فراموش نہیں کیا۔اس سال بھی مقبوضہ کشمیر میں 08جولائی کو برہان وانی کی برسی نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔اگرچہ سیکیورٹی فورسز نے ہر سال کی طرح اس سال بھی پہلے ہی سے سارے مقبوضہ کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا تھا، لوگوں کے پاس آپس میں رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا لیکن پھر بھی ساری وادی ایک بھرپور احتجاج کی تصویر بنی رہی۔ جگہ جگہ سیکیورٹی فورسز پر شدید پتھراؤ کے ساتھ ساتھ سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔بہت سے بے گناہ جیلوں میں دھکیلے گئے اور یقینا ان میں سے بہت سے ان ہی جیلوں میں گل سڑ بھی جائیں گے، کچھ کو نام نہاد فرضی مقابلوں میں مار بھی دیا جائے گا لیکن اس سب کے باوجود، تحریک آزادیء کشمیر بھی زندہ رہے گی اور برہان وانی کا دیا ہوا جذبہ شہادت بھی۔آزادی کی جنگ میں جذبے سے بڑا ہتھیار اور کوئی بھی نہیں ہوتا۔کشمیر کے بہادر بیٹے برہان وانی کی شہادت کا واقعہ ابھی کل کی سی بات لگتا ہے۔ لوگ برہان وانی کی یادوں کو آج بھی سینے سے لگائے زندہ ہیں۔انہیں لگتا ہے کہ اچانک کہیں کسی گوشے سے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ اچانک سے سامنے آئے گاا ور کشمیر میں ایک نئی صبح آزادی کی نوید سنائے گا۔برہان وانی ایک امید کا نام بھی ہے اور جذبہ آزادی کا عنوان بھی۔قابض بھارتی فوجی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وانی کو موت کے گھاٹ اتار کر انہوں نے کشمیر میں تحریک آزادی کا باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا بالکل بھی نہیں۔ وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ آج مقبوضہ کشمیر کے ہر گلی کوچے میں سینکڑوں نہیں ہزاروں برہان وانی اپنی دھرتی کو قابض بھارتی فوجیوں کے ناپاک وجود سے آزاد کروانے کے لیے سر باکفن دکھائی دیتے ہیں۔آج مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج مودی سرکار کی سرپرستی میں آگ اور خون کا جو کھلواڑ کر رہی ہیں، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ایک ایک شعلے اور ایک ایک قطرہ خون کا حساب لیا جائے گا۔جس طرح جارج فلائیڈ کے بے گناہ قتل نے ساری دنیا کو سیاہ فاموں کی مظلومیت کا احساس دلادیا اور جس طرح انسانی حقوق کے تمام علمبردار رنگ و نسل اور مذہب کی تقسیم سے بالا تر ہوکر جارج فلائیڈ کے ساتھ ہونے والے ظلم پر یک آواز ہوگئے، اسی طرح ایک روز کشمیریوں کے حقوق کی خاطر خود بھارت سے آواز اٹھے گی اور اس آواز کی گونج امریکا اور برطانیہ تک پہنچے گی، پھر ایک روز اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اپنی منظور کردہ قراردادوں کی بے حیثیتی اور بے توقیری کا احساس ہوگا اور پھر شعور و آگہی کے یہ سارے رنگ مل جل کر ایک آزاد و خود مختار، ہری بھری، خوشبودار ہوا سے لبریز وادی کشمیر کی تصویر کو رنگین کریں گے، ایک ایسی وادی جہاں ہر نوجوان کی زندگی اورہر عورت کی عزت محفوظ ہوگی۔ جہاں کوئی تین برس کا معصوم بچہ اپنے نانا کی لاش پر بیٹھ کر لوگوں کو مدد کے لیے پکارنے پر مجبور نہیں ہوگا۔آزادی کی خواہش حقیقت میں ایک جذبے کا نام ہے،جذبے امر ہوتے ہیں انہیں موت نہیں آتی۔