51 افراد کے قاتل کو سزا سے قبل کٹہرے میں آنے کی اجازت سے مسلمان تشویش میں مبتلا – Kashmir Link London

51 افراد کے قاتل کو سزا سے قبل کٹہرے میں آنے کی اجازت سے مسلمان تشویش میں مبتلا

کرائس چرچ (کشمیر لنک نیوز) نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں گزشتہ سال پچاس سے زائد لوگوں کو مار دینے والے آسٹریلوی باشندے نے کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ آئیندہ پیشی پے اپنی وکالت خود کریگا۔
واضع رہے کہ اس پیشی پے ملزم برینٹن ٹیرنٹ کو 51 افراد کے قتل، اقدام قتل کے 40 جرائم اور دہشت گردی کے جرم میں 24 اگست کو سزا سنائی جانی ہے۔


پیر کو ہائی کورٹ کے جج کیمرون مینڈر نے ٹیرنٹ کے وکلا شین ٹیٹ اور جوناتھن ہڈسن کو ان کے کلائنٹ کی درخواست پر مقدمے کی کارروائی سے الگ ہونے کی اجازت دے دی۔ تاہم جج نے اگلے ماہ ٹیرنٹ کے مقدمے کی سماعت کے موقعے پر ان کی نمائندگی کے لیے ایک وکیل تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ملزم کا یہ اقدام صرف اور صرف انتہائی دائیں بازو کے نظریات کو تقویت پہنچانا ہے اور وہ آخری دم تک اپنی وائٹ سپرمیسی کا دفاع کریگا۔
نیوزی لینڈ مسلم ایسوسی ایشن کے صدرنے ٹیرنٹ کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ظلم والے شخص کو کٹہرے سے انتہائی دائیں بازو کے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت دینے سے فائرنگ متاثرہ افراد ایک پھر ذہنی اذیت کا شکار ہوں گے۔


ان کا کہنا تھا کہ ٹیرنٹ کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کی وجہ سے بہت سارے لوگ اب تک صدمے سے دوچار ہیں وہ سزا سنائے جانے کے عمل کو ان واقعات کے اختتام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے یہ قصہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا جس سے لوگوں کو مزید تکلیف پہنچے۔
یاد رہے کہ ٹیرنٹ نے مارچ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں حملہ کر کے 51 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں بچے، خواتین اور معمر افراد بھی شامل تھے۔
ٹیرنٹ کو سزا سنائے جانے کی کارروائی تین دن پر مشتمل ہو گی۔ اس موقعے پر فائرنگ میں بچ جانے والے متاثرہ خاندانوں کے لوگ عدالت میں موجود ہوں گے۔

ملعون دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ