ریممبرنگ سربرینیکا؛ بوسنیائی مسلمانوں کی یاد میں عالمی سیمینار کا انعقاد – Kashmir Link London

ریممبرنگ سربرینیکا؛ بوسنیائی مسلمانوں کی یاد میں عالمی سیمینار کا انعقاد

لندن (کشمیر لنک نیوز) بوسنیا کے مسلمانوں کے سرب افواج کے ہاتھوں قتل عام کے پچیس سال مکمل ہونے پر ایک ورچوئل اجلاس ہوا جس میں پریس چارلز اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سمیت متعدد عالمی رہنمائوں نے اظہار خیال کیا۔


ان رہنمائوں میں بوسنیا ہرزیگوینا کے صدر سیفک دزافیرووک، لیبر پارٹی کے قائد سر کیئر اسٹارمر، بوسنیا ہرزیگوینا کے مفتی اعظم حسین ایف کاوا زووک، چیف ربی افراہیم مروس، کارڈینل ونسینٹ نکولس، آرچ بشپ آف ویسٹ منسٹر، ڈیوڈ کیمرون، بل کلنٹن، لارڈ ویلیم ہیگ اور سیکرٹری میڈیلن البرائٹ شامل تھے۔


اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ جولائی 1995 میں جو کچھ ہوا، عالمی عدالتوں نے انھیں قتل عام قرار دیا ہے، یہ قتل عام ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک خوفناک دھبہ ہے، ماضی کے اس دکھ کو یاد کرتے ہوئے اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہم سب کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ ایسا اب کبھی نہیں ہوگا۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سربیا میں جو کچھ ہوا، اسے بھول جانے یا اس کی تردید کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ہمیں انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اس جانکاہ واقعے کے شکار لوگوں اور مستقبل کی نسلوں کا یہ ہم پر قرض ہے کہ ہم سربرینیکا کو یاد رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ کبھی اس طرح کے واقعے کا اعادہ نہ ہوسکے۔ سربرینیکا کے قتل عام میں 8000 سے زیادہ مرد اور لڑکے ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور 20000 سے زیادہ خواتین اور بچوں کو زبردستی ملک سے نکال دیاگیا تھا۔ میں اس المناک لمحات کا شکار ہونے والوں کی تعزیت کیلئے آپ کے ساتھ ہوں۔


شہزادہ چارلس، جو مارچ میں سربرینیکا کا دورہ کرنے والے تھے لیکن کووڈ-19 کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی ہوگیا، نے ورچوئل ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ان ہولناک جرائم کے 25 سال بعد بھی اس طرح کے ہولناک جرائم ہو رہے ہیں، ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنا چاہئے، جنھوں نے اپنا بہت کچھ کھو دیا، برطانیہ سربرینیکا کے قتل عام کی یاد منانے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں ہر سال مقامی طورپر کم وبیش 1000 یادگار ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں۔
ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ انجیلا جولی، جو اقوام متحدہ کے ریفیوجیز سے متعلق کمشنر کی خصوصی ایلچی ہیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج میں سربرینیکا کی ان مائوں اور دیگر بچ جانے والوں کے بارے میں سوچتی ہوں، جن کے شوہر، بھائی اور بیٹے 25 سال قبل قتل عام میں قتل کردیئے گئے، یہ بوسنیا کے عوام کا ایسا نقصان ہے، جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، میں بوسنیا کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں، میں ان کا احترام کرتی ہوں اور میں ان کیلئے غمزدہ ہوں۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا کہ سربرینیکا کے واقعات نے کشیدگی اور تنازعات سے جنم لینے والی دہشت نے دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں اور اس کے بعد جنگوں کی روک تھام کی کوششوں میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔
تقریب کا اہتمام ’ریممبرنگ سربرینیکا یوکے‘ کے چیئرمین ڈاکٹر وقار اعظمی او بی ای نے کیا تھا انکا کہنا تھا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میرے ملک نے شہزادہ چارلس، وزیراعظم بورس جانسن جیسی اعلیٰ ترین سطح کی سپورٹ سے سربرینیکا کا یادگاری دن منایا۔