شام جاکر داعش کیساتھ ملنے والی شمیمہ کو برطانیہ واپس آکر اپنا مقدمہ لڑنے کی اجازت – Kashmir Link London

شام جاکر داعش کیساتھ ملنے والی شمیمہ کو برطانیہ واپس آکر اپنا مقدمہ لڑنے کی اجازت

لندن (رپورٹ اکرم عابد) برطانیہ کے کورٹ آف اپیل نے بنگلہ دیشی نژاد برطانوی شہریت کی حامل شمیمہ بیگم کو واپس برطانیہ آکر اپنا مقدمہ لڑنے کی اجازت دیدی ہے۔
شمیمہ بیگم کم عمری میں اپنی دو قریبی سہیلیوں کے ہمراہ 2015 میں Isis نامی دہشت گرد گروپ کو جاوئن کرنے شام چلی گئی تھیں۔
شمیمہ نے وہاں داعش کے ایک رہنما سے نکاح کرلیا جس سے اسکا ایک بیٹا بھی ہے۔
داعش کی پناہ سے بھاگ کر شمیمہ بیگم شامی پناہ گزینوں کیمپ پہنچ گئیں اور وہاں پر انہوں نے بچے کو جنم دیا۔ کورٹ آف اپیل کے اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث کا آغاز ہوگیا ہے جس میں سمیمہ کے مخالفین اور حامی اسکے برطانیہ آنے کے حوالے سے اپنی اپنی آرا کا اظہار کررہے ہیں۔


یاد رہے برطانوی حکومت نے شمیمہ بیگم سمیت دیگر جتنے بھی برطانوی شہریت کے حامل افراد نے Isis کی دہشتگرد سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے برطانیہ چھوڑ کر شام کا رخ کیا تھا سب کی برطانوی شہریت منسوخ کر دی تھی۔
محکمہ داخلہ نے شمیمہ بیگم کی نیشنلٹی کو منسوخ کر دیا تھا اور اسکے برطانیہ داخلے پر پابندی لگا دی تھی لیکن اب کورٹ آف اپیل نے حکومتی فیصلے کو رد کرتے ہوئے شمیمہ بیگم کو برطانیہ آنے کی اجازت دے دی۔
شمیمہ بیگم کے بارے میں سنہ 2019 میں جب یہ معلوم ہوا کہ وہ شامی مہاجرین کے ایک کیمپ میں موجود ہیں تو برطانیہ کے ہوم آفس یا وزارتِ داخلہ نےسیکیورٹی بنیادوں پر ان کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
شمیمہ بیگم کو برطانیہ واپس آنے کے فیصلے کے بارے میں تازہ عدالتی فیصلے پر ہوم آفس نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت لینے کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد حکومت کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ اس 20 سالہ خاتون کو جو کہ اس وقت شام کے مہاجر کیمپ روج میں موجود ہیں برطانیہ واپس لا کر عدالت میں پیش ہونے کا راستہ تلاش کریں جبکہ اس سے قبل حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ شمیمہ بیگم کو مہاجر کیمپ سے واپس لانے کے لیے کچھ نہیں کرے گی۔
کورٹ آف اپیل کے جج لارڈ جسٹس فلاکس اور بنچ میں شامل انکے ساتھی ججز نے مشترکہ فیصلہ دیا کہ شمیمہ برطانیہ واپس آکر ہی بہتر طریقے سے اپنی کھوئی ہوئی شہریت کا دفاع کرسکتی ہیں۔

بحث کا زیادہ تر مرکز شمیمہ بیگم کا مانچسٹر بم حملے کے بعد اس حملے کا دفاع تھا، غیر مسلموں کے علاوہ مسلمان بھی اسکے اس بیان کو زہرآلودہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ اسکے علاقے بیتھنل گرین کے بہت سے حمائیتی اسے بےگناہ قرار دے رہے ہیں کہ اسے ماسٹر مائینڈ لوگوں نے ورغلایا تھا۔