بازیابی کیلئے دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازیں جیت گئیں، مطیع اللہ جان واپس گھر پہنچ گئے – Kashmir Link London

بازیابی کیلئے دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازیں جیت گئیں، مطیع اللہ جان واپس گھر پہنچ گئے

لندن (کشمیر لنک نیوز) منگل کی صبح اسلام آباد سے اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان رات کی تاریکی میں گھر واپس پہنچ گئے، صبح عدالت میں پیش ہونے کیلئے تیار۔
اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے سینیئر صحافی کو اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے علاقے میں چھوڑا۔
پاکستان کے بے باک اور نڈر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا پر برطانیہ اور یورپ کی صحافتی تنظیموں اور کمیونٹی رہنمائوں نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں فوری طور پہ بازیاب کرایا جائے اور ایسی حرکت کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔پاکستان پریس کلب برطانیہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں صدر مبین چوہدری نے کہا کہ کلب کا ایک ایک ممبر مطیع اللہ کیساتھ ہے، پاکستان پریس کلب برطانیہ، پی ایف یو جے اور پاکستان کے تمام پریس کلبوں کیساتھ مل کر عالمی سطح پر انکی بازیابی کی تحریک کو آگے بڑھائے گا۔

جنرل سیکریٹری پاکستان پریس کلب یوکے ارشد رچیال نے کہا کہ ہم اوورسیز صحافیوں کو پاکستان کی موجودہ حکومت سے بڑی امیدیں تھیں کہ یہ خود سالہا سال جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئی ہے اسلیئے اسے عوامی اور صحافتی مسائل کا بخوبی ادراک ہوگا لیکن افسوس کی یہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی، اگر مطیع اللہ جان کو کوئی گزند پہنچا تو اسکی تمام تر ذمہ دار حکومت ہوگی۔
کلب کے دیگر عہدیداران اور ممبران نے صحافی مطیع اللہ کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ انکی بازیابی تک ایک بھی فرد چین سے نہ بیٹھے گا۔

واضع رہے کہ مطیع اللہ پاکستانی صحافت میں اپنی بے باکی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، آج صبح دارالحکومت اسلام آباد سے چند نامعلوم افراد نے انہیں پہلے زدوکوب کیا اور پھر زبردستی اغوا کرکے ساتھ لےگئے، قریبی سکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تمام کاروائی کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔

مطیع اللہ جان کے اہلِ خانہ اور وفاقی وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے مطیع اللہ جان کے اغوا کی تصدیق کی، شبلی فراز کا کہنا ہے کہ حکومت مطیع اللہ جان کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کرے گی۔
مطیع اللہ جان پاکستان میں ریاستی اداروں باالخصوص فوج کی سیاست میں مداخلت پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ چند روز قبل ججز سے متعلق ایک ٹوئٹ پر مطیع اللہ جان کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا اور اس نوٹس کی سماعت کے سلسلے میں انہیں اگلے روز یعنی بدھ کو عدالت میں پیش ہونا تھا۔
تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس وقوعے کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں بازیاب کراکے کل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مطیع اللہ جان کے اغوا پر سیکریٹری داخلہ اور اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔


مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغریٰ نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ ان کے شوہر دن 11 بجے کے قریب اُنہیں لینے اسکول آئے تھے۔ وہ اُنہیں کال کرتی رہیں لیکن اُن سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا جس کے بعد اسکول کے گارڈ نے بتایا کہ اُن کی گاڑی تو ڈیڑھ، دو گھنٹے سے باہر کھڑی ہے۔
اُن کے بقول جب وہ اسکول سے باہر آئیں تو مطیع کی گاڑی کھلی ہوئی تھی جس میں ان کا ایک موبائل فون بھی موجود تھا۔ اس پر اُنہوں نے اپنے دیور سے رابطہ کیا جنہوں نے اُنہیں پولیس کو کال کرنے کا کہا۔
مطیع اللہ جان کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ اُن کے شوہر پر اس سے قبل بھی دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں۔ چند روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس کے فیصلے پر اُنہوں نے ایک ٹوئٹ کی تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے نظر انداز کر دیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اُنہیں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور کمیٹی فار پروٹیکٹ جرنلسٹس سی پی جے سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے بھی مطیع اللہ جان کے اغوا پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔