برطانیہ کے ہانگ کانگ سے “حوالگی ملزمان معاہدے” کی منسوخی پر چین کا احتجاج – Kashmir Link London

برطانیہ کے ہانگ کانگ سے “حوالگی ملزمان معاہدے” کی منسوخی پر چین کا احتجاج

لندن (کشمیر لنک نیوز) حکومت برطانیہ ہانگ کانگ کے معاملے پر چین سے کشیدگی بڑھنے کے بعد ہانگ کانگ کے ساتھ تحویلِ ملزمان کا معاہدہ معطل کردیا ہے۔
اس کے ردعمل میں چین نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ نے ہانگ کانگ کے بارے میں اپنی روش تبدیل نہیں کی تو اُس کو اِس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ ہانگ کانگ کے ساتھ تحویل ملزمان کا معاہدہ فوری طور پر معطل کیا جارہا ہے اور ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا دائرہ کار بھی ہانگ کانگ تک پھیلایا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈومینک راب نے کہا تھا کہ وہ ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کا دائرہ کار چین سے بڑھا کر ہانگ کانگ تک لے جائیں گے۔ یعنی برطانیہ سے اسلحہ اور ایمونیشن ہانگ کانگ برآمد کرنے پر پابندی ہو گی۔
ڈومینک راب نے مزید کہا کہ ہم ان اقدامات کو واپس لینے پر اس وقت تک نظرِ ثانی نہیں کریں گے جب تک ہانگ کانگ کے شہریوں کی تحفظ کے لیے واضح اور ٹھوس حفاظتی انتظامات نہ کیے جائیں۔
برطانیہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد لندن میں چین کے سفیر نے برطانیہ پر چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ چین نے برطانیہ کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی اور برطانیہ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

یاد رہے اس ماہ کے شروع میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں بسنے والے 30 لاکھ لوگوں کو برطانیہ آ کر آباد ہونے کا موقع فراہم کریں گے اور ان کو برطانیہ شہریت بھی دے دی جائے گی۔
برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے ہانگ کانگ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قوانین کا کسی طرح اطلاق کیا جائے گا اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہ کہا برطانیہ دیکھ رہا ہے بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر برطانیہ میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو ہانگ کانگ میں ہونے والے کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے ہانگ کانگ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔