ترقی کی رفتار میں تیزی کیلئے اوورسیز سائینسدانوں کو مواقع فراہم کرنا ہونگے: نفیس زکریا – Kashmir Link London

ترقی کی رفتار میں تیزی کیلئے اوورسیز سائینسدانوں کو مواقع فراہم کرنا ہونگے: نفیس زکریا

لندن (اکرم عابد) وطن عزیز پاکستان ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے اس سفر کو مزید آسان اور تیز رفتار کرنے کیلئے اوورسیز میں مقیم قابل افراد کو مواقع دینے چاہیئں، ان خیالات کا اظہار لندن میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر نفیس زکریا نے ایک آن لائین کانفرنس میں کیا۔ اس دو روزہ عالمی کانفرنس کا موضوع تھا پروموٹنگ اپلائیڈ سائنسز ان پاکستان۔
اختتامی سیسش سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کا مستقبل سنوارنے کیلئے ملک کے سمندرپار سائنس دان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ہونگے، پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے جوکہ مختلف شعبوں بشمول اپلائیڈ سائنس اور ریسرچ میں پاکستان کے مستقبل کو نئی شکل دینے کیلئے ناقابل یقین انسانی وسائل فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کانفرنس کا انعقاد این یو ایس ٹی ۔ پاکستان ،یونیورسٹی آف کیمبرج یو کے اوریونائیٹڈ عرب امارات نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ ہائی کمشنر نے پاکستان کی شاندار تاریخ اور سائنس کی دنیا میں ان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاکو بتایا کہ پاکستان نے 1991میں ہی سائنٹیفک کمیٹی فارانٹارکٹک ریسرچ (ایس سی اے آر) پر دستخط کر دیئے تھے۔ پاکستان کی سائنسی ترقی اور کامیابیوں کوسراہا گیا اور وہ 2015 میں ایسوسی ایٹیڈ رکن بنا لیا گیا۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ فارماسیوٹیکل ، ہیلتھ کیئر، حال ہی میں سامنے آنے والے پی پی ای سیکٹر،سرجیکل آلات ، سیمی کنڈیکٹر ، میٹلرجی ، آئی ٹی ، ٹیکنالوجی کی مدد سے ای ۔ کامرس ، زرعی صنعت ، جیمولوجی سیکٹر اور سپورٹس کے شعبوں میں مکمل توانائیوں کے ساتھ ریسرچ اور بڑھوتری کے لئے کام کریں۔
اس موقع پر خصوصی مہمانوں میں وفاقی وزیر، چیئرمین سینٹ سٹینڈنگ کمیتی مشتاق خان اور یونیورسٹی آف کیمبرج یو کے سے پروفیسر اینڈریا سی فراری نے بھی خطاب کیا۔
دیگر مقررئین میں پروفیسر یو شیتیرو مائنو ( کیوٹو یونیورسٹی ، جاپان) ، پروفیسر مائیکل سٹیجرز( یونیورسٹی آف ہیمبرگ، جرمنی) ، پروفیسر احمد عبداللہ( ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، قطر) ، ڈاکٹر شنگو یونیزاوا( کیوٹو یونیورسٹی، جاپان ) ، ڈاکٹر ایم صبیح انور(ایل یو ایم ایس، پاکستان) ، ڈاکٹر کارلو سویریو لویریو ( یونیورسٹی آف برسلز) ، پروفیسر جیسن رابنسن ( یونیورسٹی آف کیمبرج، یوکے) ، ڈاکٹر لوسیا جیما ڈیلاگو( ، یونیورسٹی آف پیڈوا، اٹلی ) ، ڈاکٹر جارجیا لونگوباردی، ڈاکٹر سلیم ایاز، ڈاکٹر علی حسین، ڈاکٹر ارتضیٰ حسین ڈاکٹر رضوان نیازی، ڈاکٹر ناصر محمود ، ڈاکٹر طارق مسعود، ڈاکٹر یانگ پنگ ما، ڈاکٹر یارجن عبدالصمد اور افشین زہرہ شامل تھیں۔