شہباز شریف کے داماد کا برطانوی اخبار کو ہرجانے کا نوٹس، پیروی پی ٹی آئی رہنما کی فرم کرے گی – Kashmir Link London

شہباز شریف کے داماد کا برطانوی اخبار کو ہرجانے کا نوٹس، پیروی پی ٹی آئی رہنما کی فرم کرے گی

لندن (کشمیر لنک نیوز) پروفیشنلزم کی عظیم مثال، پی ٹی آئی لندن کے سابق صدر کی لا فرم مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف کے داماد کا کیس برطانوی عدالت میں لڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی لندن کے سابق صدر میاں وحیدالرحمان کی لا فرم ایم آر سالیسٹرز نے برطانوی اخبار میل آن سنڈے میں شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف پر لگے الزامات کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف نے اس فرم کے توسط سے برطانوی اخبار میل آن سنڈے، میل آن لائن اور رپورٹر ڈیوڈ روز کے خلاف مقدمے میں جھوٹی خبر پر معافی کے علاوہ پانچ لاکھ پائونڈز ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ سال شائع ہونے والے ایک آرٹیکل پر دائر کیا گیا، جس میں عمران علی یوسف پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ 2005 میں آزاد جموں و کشمیر میں زلزلہ متاثرین کیلئے مختص برطانوی فارن ایڈ چوری کر رہےہیں۔
عمران علی یوسف نے مقدمے میں ڈیلی میل کی جانب سے عائد کرپشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے انتقام کی خاطر ان کےخلاف ڈیلی میل کو استعمال کیا اور ڈیلی میل نے جان بوجھ کر بغیر تحقیق کرپشن کے الزامات لگائے۔ عمران کا کہنا ہے کہ ڈیلی میل میں شائع ہونے والے الزامات کا مقصد سیاسی انتقام تھا، حبس بےجا میں رکھے گئے افراد پر تشدد کرکے میرےخلاف بیانات لئے گئے جبکہ ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (ڈیفڈ) کی فنڈنگ سے کبھی میرا کوئی تعلق نہیں رہا۔
لا فرم نے اس مقدمے کی پیروی کیلئے ایک نامور برٹش بنگالی بیرسٹر کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں۔
رہے کہ 14 جولائی 2019 کو برطانوی اخبار ڈیلی میل نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان نے زلزلہ متاثرین کو ملنے والی برطانوی امداد میں چوری کی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شہباز دور میں برطانوی امدادی ادارے نے لگ بھگ 50 کروڑ پؤنڈ پنجاب کو دیئے۔

یہ خبر اخبار کی ویب سائٹ پر ابھی تک موجود ہے جسے 34 ہزار سے زائد بار شیئر کیا جاچکا ہے۔
دی میل کے پبلشرز کا کہنا ہے کہ وہ اس خبر پر قائم ہیں اور اس کا عدالت میں دفاع کریں گے۔
ایم آر سالیسٹرز کے پرنسپل پارٹنر میاں وحیدالرحمان کا اس کیس کی پیروی کے حوالے سے کہنا ہے کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن پیشہ وارانہ ذمہ داریاں اپنی جگہ وکلا کا کام ہی سائلین کو انصاف دلانا ہوتا ہے