انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ؛ قومی پیسرز نے بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا – Kashmir Link London

انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ؛ قومی پیسرز نے بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا

ڈربی (سپورٹس رپورٹر) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دوسرے چار روزہ انٹرا اسکواڈ پریکٹس میچ میں قومی پیسرز نے بیٹنگ لائن کی ٹانگیں لرزا دیں، سہیل خان کی پانچ وکٹوں کے سامنے اظہرعلی کی زیر قیادت گرین ٹیم محض 113رنزپر محدودہو گئی،بابر اعظم 32اور محمد رضوان 18بنا کر نمایاں رہے ،فہیم اشرف نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں،جواب میںسرفراز احمد کی کپتانی میں کھیلنے والی وائٹ ٹیم 88رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھی،فخر زمان ہی 22اسکور کر سکے جبکہ امام الحق کو 19پر ریٹائرڈ ہرٹ ہونا پڑا مگر فواد عالم 18پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ امام الحق دوسرے روز اپنی بیٹنگ جاری رکھنے کو تیار ہیں۔ انگلینڈ کیخلاف پانچ اگست سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز سے قبل آخری فرسٹ کلاس میچ کے پہلے روزٹیم وائٹ کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کیلئے انکورا کاؤنٹی گراؤنڈ سنبھالنے کا فیصلہ کیا تو گیارہویں اوور کے آغاز تک ٹیم وائٹ محض 23 رنز پر اپنی تین وکٹیں سہیل خان کے حوالے کر چکی تھی جنہوں نے عابد علی کو ایک،شان مسعود کو 9اور کپتان اظہرعلی کو 6رنز سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔اسد شفیق بھی 9 رنز بنا کر فہیم اشرف کا نشانہ بن گئے تو پاکستانی ٹاپ آرڈر بیٹنگ لائن کم و بیش ٹھکانے لگ چکی تھی البتہ بابر اعظم نے وکٹ کیپر محمد رضوان کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسکور کو 64 رنز تک پہنچایا تو عمران خان نے سرفراز احمد کی مدد سے بابر اعظم کو بھی رخصت کردیا جو تین چوکوں کی مدد سے 32رنز بنا سکے تھے۔


محمد رضوان نے اگرچہ ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور 11رنز بنانے والے شاداب خان کے ساتھ اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر سہیل خان نے شاداب خان کو بھی چلتا کیا اور پھر 64 گیندیں کھیل کر 18 رنز بنانے والے محمد رضوان بھی فہیم اشرف کے ہاتھوں بولڈ ہوئے تو ان کے بعد اختتامی کھلاڑی ٹوٹل میں 21 رنز کا اضافہ کرسکے اور پوری ٹیم 113رنز پر محدود ہو گئی جس میں یاسر شاہ 8 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے ۔سہیل خان نے پانچ اور فہیم اشرف نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ عمران خان اور کاشف بھٹی نے ایک،ایک وکٹ پر اکتفا کیا لیکن گرین ٹیم کے صرف تین بیٹسمینوں کو دہرے عدد تک رسائی کا موقع مل سکا حالانکہ ٹاپ آرڈر میں کئی صف اول کے بیٹسمین موجود تھے ۔جوابی اننگز میں وائٹ ٹیم کے افتتاحی بیٹسمینوں نے 41 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا لیکن چار چوکوں سمیت 22رنز بنانے والے فخر زمان کو نسیم شاہ نے ایل بی ڈبلیو کردیا تو امام الحق کو حیدرعلی کے ساتھ اننگز آگے بڑھانے کا کام سنبھالنا پڑامگرکھیل کا پانسہ اس وقت پلٹ گیا جب حیدر علی نے سات رنز بنانے کے بعد اپنی وکٹ شان مسعود کے حوالے کردی جبکہ امام الحق کو 19رنز پر ریٹائرڈ ہونا پڑا جن کو بائیں ہاتھ پر نسیم شاہ کی بال لگنے پرمیدان سے باہر لے جایا گیا۔

افتخار احمد بھی سات رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر اسٹمپڈ ہوئے تو تین وکٹیں 77 رنز پر گر چکی تھیں لیکن فواد عالم نے 18اور کپتان سرفراز احمد نے 6 رنز بنا کر دن کا اختتام کیا تو مجموعہ تین وکٹوں پر 88 رنز تھا اور گرین ٹیم کی برابری کیلئے وائٹ ٹیم کو مزید 25 رنز درکار ہیں۔انگلش کنڈیشنز میں پاکستانی پیسرز کی عمدہ کارکردگی کے برعکس بیٹنگ لائن کی پرفارمنس مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں ہے اور خاص کر ٹاپ آرڈر بیٹسمین مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں جن کو نئی گیند کیخلاف جدوجہد کا سامنا ہے اور اس میچ میں بھی اسی قسم کے مناظر دیکھنے میں آئے ہیں۔