بھارت کے خلاف 5 اگست کو برطانیہ کے چار بڑے شہروں میں مظاہرے ہونگے؛ کشمیری رہنما – Kashmir Link London

بھارت کے خلاف 5 اگست کو برطانیہ کے چار بڑے شہروں میں مظاہرے ہونگے؛ کشمیری رہنما

لوٹن (شیراز خان) ایک سال پہلے بھارت نے اپنے آئین سے دفعہ 370 اور A35 کو ہٹا کر آئین ہند سے ریاست کی خصوصی حیثیت اور شناخت ختم کر دی تھی اور اس عمل کے ردعمل سے بچنے کی خاطر مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کر دیا گیا تھا جو ہنوز جاری ہے۔
ان خیالات کا اظہار برطانیوی کشمیریوں نے ایک مشترکہ ویڈیو پریس کانفرنس کے ذریعے کیا ہے اس موقع پر شرکاء کانفرنس کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 کے باعث ایک مرکزی مظاہرے کے بجائے ایک ہی دن 5 اگست کو برطانیہ کے چار بڑے شہروں لندن، برمنگھم، مانچسٹر اور بریڈفورڈ میں مظاہرے ہوں گئے جن کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈائون اور بھارت کا کشمیریوں سے ناروا سلوک اور بہترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا ہے۔

برٹش کشمیری فورم کے زیر اہتمام کانفرنس کے شرکاء جن میں حکومت آزادکشمیر کے برطانیہ کے لئے کمشنر زبیر اقبال کیانی، سید تحسین گیلانی، ظفر قریشی، شبیر ملک، راجہ امجد، صابر گل، لیاقت لون، سجاول یوسف، مقصود حسین، راجہ آعظم مولانا شفیق الرحمن، چوہدری ناصر، جاوید قادر، چوہدری طارق، آصف شریف اور دیگر شامل تھے ان سب کا یہ کہنا تھا 5 آ گست کشمیریوں کے لیے ایک نہایت اہم دن ہے اس دن ہم برطانیہ میں آباد کشمیری، پاکستانی اور تمام انسان دوست تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظاہروں میں شامل ہوں بھارت سرکار کی انسانیت سوز پالیسیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کی مزمت کریں۔
تاہم منتظمین کا کہنا تھا کہ ہاتھ ملانا اور گلے ملنا اگرچہ کشمیری کلچرکا اہم حصہ ہے لیکن کووڈ-19 کے باعث اس کا زیادہ سے زیادہ پرہیز کریں تاکہ احتجاج کو پر امن اور کامیاب بنانے کے لیے اور حکومتی ہدایات پر ذمہ داری سے عمل پیراء ہو کر فیس ماسک ، سماجی فیصلے اور سنیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
زبیر اقبال کیانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر دور دراز کے علاقوں نوٹنگھم، پیٹربرا، برسٹل جیسے شہروں یا دیگر علاقوں کے افراد اپنے اپنے ٹاون ہال کے باہر بھی مظاہرے کرسکتے ہیں۔
پریس کانفرنس کی نظامت سنئیر صحافی شیراز خان اور ظفر قریشی نے مشرکہ طور پر کی جبکہ صحافیوں میں نثار گلشن، اسرار خان، احتشام الحق قریشی، کینڈا سے سید تصدق گردیزی، شہزاد علی، اسرار راجہ، توقیر لون اور دیگر شامل تھے۔