پاکیزہ ہستیوں کی ناموس کے تحفظ کیلئے یکجہتی کی ضرورت ہے؛ پیرعبدالقادر گیلانی – Kashmir Link London

پاکیزہ ہستیوں کی ناموس کے تحفظ کیلئے یکجہتی کی ضرورت ہے؛ پیرعبدالقادر گیلانی

لوٹن (کشمیر لنک نیوز) مرکزی جماعت اہلسنت یوکے اینڈ اوورسیز ٹرسٹ کے زیراہتمام جماعت کے صدر علامہ پروفیسر احمد حسن ترمذی جو چند روز قبل انتقال کرگئے تھے کی یاد میں تعزیتی ریفرنس ہوا، میزبانی کا شرف جامعہ اسلامیہ غوثیہ لوٹن کے حصے میں آیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جماعت کے سرپرست اعلیٰ مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ وقت کسی ضرورت اور پکار ہے کہ علمائے کرام اور مشائخ متحد اور منظم ہوکر قوم کی رہنمائی کا فریضہ ادا کریں، علمائے کرام انبیاء کے وارث ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور اس پُرفتن دور میں جب تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ اور تحفظ اہلبیت اطہار ؓکیلئے یکجہتی اور یگانگت کی اشد ضرورت ہے تو علمائے کرام کے باہمی اختلاف نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سید احمد حسین ترمذی ہماری جماعت کے قائد و رہنما اور بہت قیمتی اثاثہ تھے ،ان کی دینی اور ملی خدمات برطانیہ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں، انہوں نے علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفا اور محبت و اخلاص کے پیکر ہیں جنہوں نے اپنے ایک دیرینہ ساتھی کی یاد میں اس تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا۔
پاکستانی ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر سید احمد حسین ترمذی کے انتقال پر دلی صدمہ ہوا ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میں خاندان کے تمام افراد اور جماعت اہلسنت کے قائدین کے غم میں برابر کا شریک ہوں، مجھے یہ بھی احساس ہے کہ علمائے کرام اور مساجد کمیونٹی کے اتحاد کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست کشمیری قوم پر ظلم بربریت کی یاد تازہ کرے گا، آج کے دور میں جو میڈیا کا دور ہے چیخ چیخ کر ان مظلوموں پر ظلم کی داستانوں پر نوحہ کناں ہے محترم علمائے کرام سےمیری پُرزور اپیل ہے کہ پھر ایک مرتبہ آپ انسانیت کے نام پر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کیلئے دعائیں کریں۔
تعزیتی ریفرنس کے میزبان اور جماعت اہلسنت کے جنرل سیکرٹری خطیب ملت علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر سید احمد حسین ترمذی کا تعلق پاکستان کے علمی روحانی خاندان سے تھا جو گزشتہ صدی سے اسلام کی ترویج و اشاعت میں شب و روز مصروف عمل ہے، یہ عالی نسب گھرانہ ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہے، انہوں نے گزشتہ تیس سال سے برطانیہ کو اپنی دینی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور یورپ، سکینڈے نیویا، ناروے، ہالینڈ، اٹلی، جرمنی، امریکہ میں تبلیغی دورے کرکے اسلام کے پیغام امن و محبت کو عام کیا جماعت اہلسنت کیلئے شب و روز محنت کرکے علمائے کرام اور مشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا۔
الحراء ایجوکیشن سنٹر لوٹن کے پرنسپل علامہ پروفیسر مسعود اختر ہزاری نے کہا کہ پروفیسر سید احمد حسین ترمذی نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے بلکہ قدرت نے آپ کو اعلیٰ صفات و کردار سے نوازا تھا اور خدمات اسلام کے جذبہ سے سرشار تھے۔
دیگر مقررین نے بھی مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ پروفیسر سید احمد حسین ترمذی اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور انہوں نے ہمیشہ اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے یہی پیغام دیا کہ مسلمانوں کو متحد ہوکر اور ایک قوت بن کر آگے بڑھنا چاہئے۔
اظہار خیال کرنے والے علما و کمیونٹی رہنمائوں میں علامہ نیاز احمد صدیقی، علامہ حافظ نذیر احمد مہروی، صاحبزادی سید لخت حسنین، علامہ عبدالرزاق ساجد، علامہ صاحبزادہ مفتی برکات احمد چشتی، علامہ صاحبزادہ غلام جیلانی الازہری، علامہ محمد ارشد جمیل، صاحبزادہ بیرسٹر رضی حسین کاظمی، شیخ محمد عمر رمضان، صاحبزادہ سید زین العابدین، علامہ قاضی عبدالرشید چشتی، علامہ ساجد لطیف قادری، علامہ محمد طاہر نجمی، چوہدری محمد صدیق، چوہدری عبدالمجید، چوہدری علی اکبر، راجہ ظفر اللہ خان، الحاج منشی خان قادری، صوفی کرامت حسین، راجہ ظفر خان و دیگر شامل تھے۔