کورونا سے متاثرہ بلیک ایشین اینڈ مائینارٹی ایتھنک افراد پر نئی ریسرچ کا آغاز – Kashmir Link London

کورونا سے متاثرہ بلیک ایشین اینڈ مائینارٹی ایتھنک افراد پر نئی ریسرچ کا آغاز

لندن (عمران راجہ) کورونا وبا کے اکثریتی شکار افراد کی اضافی امداد کیلئے حکومت برطانیہ نے 4.3 ملین پائونڈز کے نئے فنڈز کا اجرا کردیا ہے، اس فنڈ سے اس امر کی تحقیق کی جائے گی کہ بلیک اور ایشیائی اقلیتوں کے افراد مقامی انگلش افراد کے تقابل میں زیادہ شکار کیوں ہوئے۔
اس سلسلے میں یوکے ریسرچ اینڈ انوویشن اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ ریسرچ کو تحقیقی منصوبوں کے لئے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے جو کورونا وائرس اور نسل کے مابین تعلق کو جانچنے پر کام کریگی۔
لیسٹر این ایچ ایس ٹرسٹ کے یونیورسٹی ہاسپٹل کے اعزازی مشیر ڈاکٹر منیش پیرک کی سربراہی میں اس پروجیکٹ میں اگلے 12 ماہ کے دوران بیم ہیلتھ کیئر ورکرز کے گروپس کی جسمانی اور ذہنی صحت کا جائزہ لیا جائیگا۔

ڈاکٹر پیرک نے کہا کہ عالمی سطح پر ہمارے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ بیم لوگوں میں کورونا وائرس کے باعث انتہائی نگہداشت میں مرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور یہ صحت کے عملے کیلئے بھی ہو سکتا ہے۔
واضع رہے اب تک سامنے آنیوالے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بلیک ایشین اینڈ مائینارٹی ایتھنک (بیم) یعنی اقلیتی برطانوی فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں سفید فام لوگوں کی نسبت کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے امکانات دو گنا زائد ہیں۔ اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے شعبہ صحت کے کارکنوں میں مرنے کے خطرات میں اضافے کی وجوہات کا بھی تعین کیا جائیگا۔

حالیہ چند ماہ میں BAME میڈیکل سٹاف کے افراد جو زندگی کی بازی ہارگئے