انسانی حقوق بارے تازہ برطانوی رپورٹ میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر لارڈ قربان حسین کا استفسار – Kashmir Link London

انسانی حقوق بارے تازہ برطانوی رپورٹ میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر لارڈ قربان حسین کا استفسار

لندن (اکرم عابد) دولت مشترکہ اور جنوب ایشیائی امور کے برطانوی وزیر لارڈ طارق احمد نے کہا ہے کہ وہ کچھ روز پہلے ہی بھارت کے ورچوئیل ٹور پر تھے، اس موقع پر مختلف امور زیربحث آئے تو میں نے اقلیتیوں کی حالت زار کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور میں ایسا اکثر کرتا رہتا ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی دارالامرا کے وقفہ سوالات میں لارڈ قربان حسین کے سوال کے جواب میں کیا۔
لارڈ قربان حسین نے حکومت برطانیہ سے سوال کیا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ میں مالدیپ ، سوڈان ، مصر اوردیگر ممالک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر ہے لیکن بھارت جس نے قریب ایک سال سے کشمیریوں کو جبری غلام بناکر دنیا سے انکا ناطہ ختم کرکھا ہے اسکا کہیں ذکر نہیں۔
انہوں نے حکومت برطانیہ کی توجہ دفتر خارجہ اور دولت مشترکہ کی جولائی 2020 کی انسانی حقوق اور جمہوریت بارے رپورٹ کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں ان ممالک کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بارے میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر خدشات ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر بھارت کا ذکر ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صرف پچھلی چند دہائیوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں ہزاروں افراد اسیر ہیں، لیڈر شپ گھروں میں مقید ہے۔
انہیوں نے باور کرایا کہ انسانی حقوق کی ممتاز تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے مطابق بھارتی سیکورٹی فورسز عصمت دری کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ماورائےعدالت ہلاکتوں، من مانی نظربندی، تشدد اور عام شہریوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک روا رکھنے میں ملوث ہے۔
لارڈ قربان حسین نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ نے 2018 اور 2019کی اپنی رپورٹوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی ان خبروں کی تحقیقات کے لئے کشمیر تک آزادانہ رسائی کا مطالبہ کیا تھا، تازہ ترین رپورٹ میں جون 2020میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت پر تشدد اور نابالغ بچوں کی من مانی گرفتاری کے خاتمے کی اپیل کی اس خطے میں 68 بچوں کو بھارتی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے۔ اس رپورٹ میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران آٹھ بچوں کی ہلاکت اور سات افراد کے غائب کیے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا اس سال مارچ میں اقوام متحدہ نے وبائی امراض کے پیش نظر عالمی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں وبائی امراض کے دوران الٹا تشدد کی وجہ سے زیادہ تعداد میں ہلاکتیں دیکھنے میں آئیں۔
لارڈ قربان حسین نے کہا انہیں یقین ہے کہ برطانوی حکومت ان اطلاعات سے واقف ہے لہٰذا متعلقہ وزیر سے وہ یہ دو سوالات دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے حالیہ ایف سی او کی رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کچھ ممالک کے لوگوں کے ساتھ کشمیر کی صورتحال کا موازنہ کرنا ، ہندوستان اس فہرست میں شامل ہونے کا اہل کیوں نہیں ہے؟