برٹش پاکستانی نوجوان عامرسرفرازہائوس آف لارڈز کے کم عمر ترین ممبر بن گئے – Kashmir Link London

برٹش پاکستانی نوجوان عامرسرفرازہائوس آف لارڈز کے کم عمر ترین ممبر بن گئے

لندن (کشمیر لنک نیوز) حکومت برطانیہ کیطرف سے جاری کردہ 2020 آنرز لسٹ میں ایک پاکستانی ںژاد برٹش نوجوان بھی شامل ہے جسے سب سے کم عمر لارڈ بننے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکمران ٹوری پارٹی سے تعلق رکھنے والےعامر سرفراز کو پارٹی کے لیے خدمات پر ہاؤس آف لارڈ کے ممبر کے اعزاز سے نوازا گیا۔
انکا آبائی تعلق پاکستان کے شہر گجرات سے ہے اور یہ روانی سے اردو بھی بولتے ہیں، 38 سالہ عامر سرفراز ہاؤس آف لارڈز کے کم عمر ترین رکن ہوں گے۔
عامر نے کم عمری میں ہی بزنس میں قدم جمالیئے تھے وہ اس وقت ڈریپرایسوسی ایٹس کے وینچر پارٹنر ہیں جو سیلیکون ویلی کے وینچر کیپیٹل فنڈ کی نمایاں کمپنی ہے۔
انہیں ٢٠١٨ میں سیلیکون ویلی بزنس جرنل میں چالیس سال سے کم عمر چالیس نمایاں افراد کی لسٹ میں شامل کیا گیا۔
اس وقت وہ حکومتی کنزرویٹیو پارٹی کے مرکزی خزانچی بھی ہیں۔ عامر نے دس سال قبل چھوٹے کسانوں کی فلاح و بہبود بیٹر گرین نامی ایگرئ ٹیک بزنس کی بنیاد رکھی جسکے تحت ایشیائی کسناوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔

عامر سرفراز نے 2006 سے 2014 تک کا عرصہ لندن میں پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپٹل انڈسٹری کے بزنس میں گذارا، وہ الیکٹرم گروپ یوکے میں مینیجنگ ڈائیریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
عامر اس وقت ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے بین الاقوامی مشاورتی بورڈ کے ممبر ہیں، اسی طرح وہ ولف سن کالج کے سٹریٹجی گروپ کے ممبر ہونے کے علاوہ متعدد اداروں سے وابستہ ہیں۔
پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط رکھنے کیلئے انہوں نے انڈس باسن ہولڈنگ کی بنیاد رکھی علاوہ ازیں وہ اپنے خاندان کی تنظیم فضل داد انسٹی ٹیوٹ کے ٹرسٹی اور ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ ممبر ہیں۔
وہ لندن سکول آف اکنامکس کے گریجویٹ ہیں اور ایم ایس سی کی ڈگری بھی اسی ادارے سے انفارمیشن سسٹمز میں حاصل کررکھی ہے۔
فضل داد انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام انہوں نے خصؤصی بچوں کیلئے ایک تھیراپی پروگرام کا آغاز کیا اور آکسفورڈ میں پاکستان سے متعلق لیکچر سیریز کو ممکن بنانے میں بھرپور مدد فراہم کی۔