کشمیریوں کا مخمصہ – Kashmir Link London

کشمیریوں کا مخمصہ

کشمیر کی آزادی کی سعی تقریباً1932میں شروع ہوئی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے رنجیت سنگھ (حاکم پنجاب) کے ڈوگرہ جرنیل کو75لاکھ نانک شاہی کے عوض جموں کشمیر کی ریاست فروخت کر دی۔ ڈوگرہ جرنیل نے ریاست میں قائم راج دھانیوں کے سربراہوں کو ریاست جموں کشمیر میں وزیر یا مشیر مقرر کرنے کے وعدے پر اپنے ساتھ ملا لیا۔راج دھانیوں پر قائم صدیوں سے چلے آنے والی حکمرانی کو ختم کر کے جموں کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط کر لیا۔بعد ازاں کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کے ابتلا کا آغاز ہوا۔اس دور سے قائم چلا آ رہا جو رد ستم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔کشمیر کے باسیوں کی جدو جہد آزادی لاکھوں سروں کی قربانیاں دینے کے بعد تا حال منزل نہیں پا سکی۔ڈوگرہ راج نے ریاستی باشندوں پر ایسے ٹیکس عائد کئے جس کی نظیر دنیا کے کسی خطے میں آباد اقوام عالم میں نہیں ملتی۔مثلاً بکری پر ٹیکس،گائے پر ٹیکس،روزن پر ٹیکس،چولہے پر ٹیکس،کھڑکی پر ٹیکس،ہوا،روشنی،راستہ،پانی مخلوق خدا کیلئے تحفہ خدا وندی ہے جس سے زندگی نمو پاتی ہے۔

تقسیم ہندوستان جس کے تحت مسلمانوں اور ہندوئوں کے لئے الگ الگ ملک وقوع پذیر ہوئے اور ریاستوں کیلئے کہا گیا تھا کہ جس ملک کے ساتھ چاہئیں آبادی کی اکثریتی رائے سے الحاق کر سکتے ہیں۔بھارت نے زبردستی کی بنیاد پر جونا گڑھ اور حیدر آباد کی ریاستیں ہڑپ کر لیں۔کشمیر کی سیاست کے بارے میں سازش کا کھیل رچایا گیا جس میں اپنے اور بیگانوں نے دانستہ و نا دانستہ حصہ ڈالا۔آخر کار غیر قانونی طور پر اپنی افواج کشمیر میں داخل کر دیں۔پھر خود ہی اس معاملے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے گیا۔1948سے لے کر پانچ اگست2019تک خارجہ،دفاع،مواصلات کے محکمے اپنے پاس مرکز میں رکھتے ہوئے ریاست کو اندرونی خود مختاری دے کر انتظام و انصرام جاری رکھا۔گوکہ اس دورانیہ کے مختلف وقفوں میں کشمیر میں بسنے والی قیادت کو قید و بند کی صوبتیں دیں اور بھارتی حکومت کی شرائط کے عوض ہی انہیں رہائی نصیب ہوئی۔کشمیر میں انتخابات کا ڈھول بھی ڈالا گیا مگر ابتلا کی سیاہ رات ختم ہونے کو نہیں آئی۔کشمیر کی حریت پسند قیادت نے برس ہا برس سے آزادی کی نہ ختم ہونے والی جدو جہد میں لاکھوں مردوزن اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے مگر آزادی کی صبح ہے کہ طلوع ہونے کو نہیں۔کئی نامور نام اس حصول آزادی میں کھیت رہے۔

پانچ اگست2019کا سورج مقبوضہ کشمیر میں رہنے والی مسلمان آبادی کیلئے ایک نئی آزمائش لے کر طلوع ہوا۔ہندوستان کی حکومت نے اپنی مرکزی اسمبلی میں آئینی ترمیم کرتے ہوئے آئین کی شک370کو منسوخ کر دیا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔مقبوضہ کشمیر میں ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے تین الگ الگ انتطامی یونٹ قائم کر کے ریاست کے اتحاد کو توڑنے کی شعوری کوشش کی ہے۔جسے وقتی طور جموں و کشمیر کی ریاست کو دھچکا لگا ہے۔اگر دیکھا جائے تو کشمیری انتظامی طور پر چھ حصوں میں بٹ گئے یا بانٹ دیئے گئے۔یہاں سے عنوان بالا میں متذکرہ محمصہ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی کی نشستیں الگ کرتے ہوئے سری نگر کے مقابلے میں جموں کی نشستیں بڑھا دی گئی ہیں۔آئندہ انتخابات میں جموں کی نشستوں سے کامیاب ہونے والے امیدواران ریاست جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کے حامل ہوں گےاور اس طرح انتظامیہ اور مقننہ میں برتری حاصل ہونے کی بنیاد پر اپنی مرضی کے قوانین منظور نافذ کروا سکیں گے۔انتظامیہ تو ہو گی ان کی کٹھ پتلی جبکہ لداخ میں تقسیم کی جانے والی ریاست سے نئے حصہ داران پیدا ہوں گے جو کہ اپنی مرضی کی قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کرنے میں آزاد ہوں گے جبکہ ریاست کی تقسیم کا تیسرا حصہ دہلی انتظامیہ کے ماتحت ہو گا۔پاکستان میں بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال موجود ہے۔کشمیریوں کی تقدیر انتظامی طور پر تقسیم شدہ علاقوں کی بنیاد پر کیسے فروغ پائے گی۔مقدمے کے فریقین کیسے ایک میز پر بیٹھیں گے۔حق خود ارادیت کا باب کیسے فروغ پذیر ہو گا اس بلین ڈالر سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا یا کہ لاحاصل نتیجہ؟

50% LikesVS
50% Dislikes