حضرت محمد ﷺ کی محبت اور تحریک لبیک – Kashmir Link London

حضرت محمد ﷺ کی محبت اور تحریک لبیک

سیاسی جماعت تحریک لبیک کا مطالبہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے پھر ایسا کیا ہوگیا ہے کہ اچانک حکومت نے اس جماعت پر پابندی عائد کردی ہے اس حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر متضاد خبریں اور تجزیئے پیش کئے جارہے ہیں لیکن موجودہ حالات پر کچھ کہنے سے پہلے اگر سابقہ دور کی بات کریں یعنی جب سے تحریک لبیک معرض وجود میں آئی ہے تو پتہ ہمیں چلتا ہے کہ یہ ایک نیک مقصد کا نعرہ لے کر چلے تھے اسی وجہ سے سادہ لوح عوام کی اکثریت ان کی گرویدہ ہو گئی تھی لیکن شروع دن سے ہی مولانا خادم رضوی کے بیانات اور ارشادات ملاحظہ کریں تو وہ کسی مہذب اور شائستہ زبان میں بالکل شمار نہیں ہوتے ہیں۔

ہم جیسے محنت مزدوری کرنے والے عام سے لوگ اس بات سے انکار کر ہی نہیں سکتے کہ ہم مسلمان بھی ہوسکتے ہیں اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت یا عقیدت اپنی جان اور اولاد سے زیادہ نہ کریں الف لام میم سے لے کر والناس تک قرآن مجید نبیؐ پر لائی ہوئی آسمانی کتاب ہمارے پاس ضابطہ حیات کیطور پر موجود ہے جس میں خود اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات نے قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند کرکے پیش کر دی ہے جو بھی مسلمان عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعویدار ہو وہ تو پُر امن ہے چونکہ اسلام کا مطلب ہی آمن و آشتی ہے بدامنی اسلامی تعلیمات میں قطعی طور پر نہیں ہے تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی مرحوم ریاستی اداروں حکومتوں، میڈیا، عدالتوں، آئین اور دستور کو نہیں مانتے تھے اور ان سب کے خلاف جس طرح وہ زہر افشانی کرتے تھے وہ ریکارڈ کا حصہ ہے اور یہ زیادہ دُور کی بات نہیں ہے۔

مانا ہمارا نظام اسلامی نہیں ہے اس میں قباعتیں اور خرابیاں موجود ہیں نظام کا حصہ بن کر نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے حکمرانوں میں برائیاں ،کجیاں کوتاہیاں موجود ہیں اس کے قصور ہم عوام بھی ہیں یہی باتیں آپ مہذب طریقے سے بھی کہہ سکتے ہیں لیکن انہوں نے ہرکسی کو گالیاں دیں سڑکیں بلاک رکھیں دھرنے دیئے اب خادم رضوی کا معاملہ اور حساب و کتاب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے لیکن ان کی وفات کے بعد اب کون لوگ انکی صفوں میں شامل ہو کر دہشتگردی تک پھیلا رہے ہیں تحریک لبیک کے نام پر غیر مہزب ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اگر تحریک لبیک میں عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو ان سے اپیل ہے کہ ہم سب ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہیں ہم سب کا نظر یہ اور سوچ ایک ہے۔

جب آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت اور شان کی بات آجائے تو کمزور سے کمزورایمان والا بھی اپنی جان کا نذرانہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے لہذا وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کے وہ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور باقی سب کا خدا نخواستہ تعلق کسی اور دین سے ہے تو وہ غلط سوچ رکھتے ہیں دلوں کا حال تو صرف اللہ تعالٰی جانتا ہے ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے آؤ ہم سب مل کر اسلام کا علم بلند کریں اور مملکت خدا داد کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں آپس میں اتحاد اور اتفاق پیدا کریں اعلیٰ تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوں اور سب مل کر اس وطن کو مضبوط بنائیں تاکہ غیر مذاہب کے ماننے والے بھی ہمارے کردار کو دیکھ کر ہمارے ساتھ ہو جائیں اور کوئی بھی مسخرہ ہمارے آقا علیہ سلام کے بارے میں کچھ کہنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے ہمارا جتنا سخت ردعمل ظاہر ہوتا ہے حضوؐر کے بارے میں ہمارے جزبات کو مشتعل کرنے والے کوئی نہ کوئی انگشت بازی کردیتے ہیں اور ہم اپنے لوگوں کو مارنے لگتے ہیں جلاو گھیرائو کرتے ہیں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں اور پولیس والوں کو مارتے ہیں جو ہمارے بھائی اور محافظ ہیں۔

صرف یورپ میں ایک اندازے کے مطابق ہم پاکستانی یا کشمیری22 لاکھ ہیں جو یہی کام کررہے ہیں کہ اسلام مخالف قوتوں کو نبیؐ کی تعلیمات کے بارے میں بتائیں اسلام صرف پاکستانیوں کے لئے نہیں ہے صرف 9/11 کے بعد ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار یورپین باشندے مسلمان ہوئے ہیں جب کہ خیال کیا جاتا ہے کہ 2050 میں مسلمانوں کی آبادی یورپ میں تقریباً25 فیصد ہوگی ان نابلد افراد یا گروپ کو کون سمجھائے کہ جو نبیؐ کے نام پر لوگوں کو کراچی، پنجاب اور دوسری جگہوں پر گُھس کر مارا ہے وہ پاکستانی ہی تھے مسلمان تھے اور ان سے ہم جو اسلام فوبیا کے خلاف باہر کے ملکوں میں کام کررہے ہیں ہمارے بارے میں جو باہر کے ملکوں میں تاثر گیا ہے وہ قابل شرم ہے ایسے عمل سے مسلمانوں اور پاکستانیوں کی بدنامی ہوئی ہے دوستو ایسے لوگوں کی حمایت نہیں کی جاسکتی ہے نہ ہمدردی جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔

پاکستان میں ایک ہفتے تک متشددانہ کاروائیوں کی وجہ سے فرانس نےاپنےشہریوں کوپاکستان چھوڑنےکی ہدایت کردی ہے سیکیورٹی خدشات کےباعث ہدایات جاری کی گئی ہیں فرانسیسی حکام نے یہ فیصلہ فرانس کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاج کے بعد کیا ہے پاکستان میں مذہبی جماعت کی طرف سے مظاہروں اور فرانس مخالف بیانات کی وجہ سے فرانسیسی شہریوں کے لئے پاکستان میں سیکورٹی مسائل پیدا ہوگئے ہیں فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ ہم موجودہ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں پاکستان میں فرانس نے موجود سفارت خانے کو اپنے شہریوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

فرانس میں پاکستانیوں کی تعداد سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ ہے لیکن حقیقت میں ڈیڑھ لاکھ پاکستانی ہونگے یہاں یہ امر بھی باعث اطمینان ہے کہ مسلمان فرانس کی آبادی کا پانچ فیصد ہیں 2300 مساجد ہیں اور مسلمان ہر ملک سے یہاں آباد ہیں یورپ میں رینے والے تمام تر مسلمان کوشش کررہے ہیں کہ باقاعدہ قانون پاس ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے کسی قسم کی گستاخی پر مبنی مواد شائع کرنے پر قانون بن سکیں تاکہ قانون شکن کو قانونی طور پر سزا دی جاسکے اس کے لئے یورپین مسلمانوں کو اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے پاکستان میں املاک کو جلانے سے نہ ہی فرانس کا کچھ بگڑنا ہے اور نہ ہی سفیر نکالنے سے ہمارے لئے کسی نے ہمدردی دکھانی ہے جو کرنا چاہتا وہ یورپین مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں نے کردار ادا کرنا ہے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان اور صدر طیب اردگان اور مہاتیر محمد کا کردار نمایاں طور پر نظر آرہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes