کشمیر میں آمدہ الیکشن – Kashmir Link London

کشمیر میں آمدہ الیکشن

آزاد جموں و کشمیر ریاست میں2016سے منتخب اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے۔چندہی ماہ بعد نئی مدت کیلئے ممبران اسمبلی کا انتخاب ہوناہے۔موجودہ حکومت میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم آزاد کشمیر ہیں۔2016میں ہونے والے الیکشن کے موقع پر مسلم لیگ نون مرکز میں حکمران تھی اسی طرح گلگت بلتستان میں حالیہ انتخابات کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت بنائی گئی ہے۔سابقہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے تھے،کیونکہ جب وہاں الیکشن کا انعقاد ہوا تھا مرکز میں مسلم لیگ ن ہی کی حکومت تھی۔اب جب کہ مرکز میں پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے تو آزاد کشمیر میں الیکشن کا ڈول ڈالا جانے والا ہے۔مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے چند سیاست دانوں کو پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے لبھایا جا رہا ہے یا انہیں مجبور کیا جا رہا ہے یا وہ مجبوراً ایسا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں انتخابات کا ڈول ڈالا جانے کا یہی معمول رائج ہے۔اگر ہم ایک طاہرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آزاد کشمیر میں ہونے والا الیکشن ریاست میں بسنے والے باشندوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی یا ہیجان برپا کرنے والا نہیں ماسوائے اس کے کہ عنان اقتدار اشاروں پہ ناچنے والے کسی تابعدار ممبر اسمبلی کے سپرد کر دی جائے گی۔ریاست سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ5یا6سابقہ وزیر اعظم میدان میں ہوں گے۔کوئی ایک آدھ نیا امیدوار بھی قسمت آزمائی کرے گا۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے تمام اقدامات جو کہ اس نے پچھلے70سال سے سوچ رکھے تھے کر گزرا ہے۔کشمیر سے نکلنے والے زیادہ تر دریائوں پر بند باندھ چکا ہے۔بجلی پیدا کرنےکے کئی منصوبے مقبوضہ کشمیر میں زیر تکمیل ہیں۔آزاد کشمیر کے ساتھ ملنے والی سرحد کے ایک بڑے حصے پر بھارت بھاڑ تعمیر کر چکا ہے۔کشمیریوں کی زندگیاں اذیت ناک حد تک مشکلات میں گھری ہوئی ہیں۔جس کے حل کی کوئی عملی صورت نظر نہیں آ رہی۔اب تو تذکرہ بھی گاہے سننے کو ملتا ہے۔ایسی کتنی قراردادیں ہونگی جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تاوقتی کہ حل طلب ہیں ماسوائے کشمیر پر استصواب رائے،تاکہ کشمیری اپنے الحاق /قسمت کا فیصلہ حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے کر سکیں۔کشمیر کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات آہستہ آہستہ قصہ پارینہ ہونے کو ہیں
مسلم لیگ ن کی طرف سے موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے چند ماہ قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ بہت سے راز ریاست کی قسمت طے کرنے کے بارے میں ان کے سینے میں دفن ہیں۔کیا آمدہ الیکشن مہم کے دوران وہ ان رازوں کو آزاد کشمیر کی ریاستی عوام کے سامنے سوچ و بچار کیلئے رکھنا پسند کریں گے؟یا ان کے خیال میں یہ چراغ اب بجھنے کو ہے؟خدانخواستہ!

50% LikesVS
50% Dislikes