کھچڑی پکنے تک !!! – Kashmir Link London

کھچڑی پکنے تک !!!

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات جولائی میں متوقع ہیں ڈھول کی تھاپ پر رقص اور بھنگڑے ابھی سے شروع ہوچکے ہیں مار ڈھول والیا ڈھول۔ جو جتنی بڑی گالی بکتا ہے جتنا بڑا بدمعاش ہے اس کو زیادہ ہار پہنائے جاتے ہیں وہی معتبر ٹھہرتا ہے اور وہی کامیاب بھی ہوتا ہے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی کئی ویڈیوز وائرل بھی ہوئی ہیں جب گالم گلوچ کا کلچر وزرات عظمیٰ کے ایوان تک پہنچ جائے تو پھر باقی لیڈروں کو کیسے منع کیا جائے حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک متوقع امیدوار کی دوسروں کو گالیاں دینے اور اپنے سپورٹروں کو دوسروں کو مارنے کی ترغیب دینے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے مجال ہے ان کو ایسی بے ہودہ گفتگو کرنے کی کوئی مزمت کرے یا انکی سپورٹ سے دستبردار ہو جائے اس کے حق میں تالیاں بھنگڑے دھمالیں ڈالی جارہی ہیں پوری آزاد کشمیر کا یہی حال ہے نہ کالج نہ سڑکیں نہ پُل نہ حلقے کے لوگوں کے لئے صحت روزگار کی سہولیات میسر ہیں آزاد کشمیر کے جنگلات کاٹ کر لوگوں نے فروخت کردیئے سرکاری زمینیں ہڑپ کر لیں آزاد کشمیر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ضلع میرپور ہے۔اس رواں سال فروری کی 26 تاریخ کو میں نے ایک دوست کا کرونا ٹیسٹ کروایا اس دوست کی ساری علامات کرونا والی تھیں بتایا گیا کہ ٹیسٹ تو میرپور میں لیا جائے گا لیکن لیبارٹری اسلام آباد میں ہے جو ٹیسٹ کا نتیجہ تیسرے دن دے گی مجھے سو فیصد یقین ہے کہ ٹیسٹ کے لئے نمونے ہی اسلام آباد بھیجے ہی نہیں گئے ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو ٹائی فائیڈ ہے گولیاں تھما دیں۔

میرپور پاکستان کے تمام تر شہروں سے ایڈوانس ہے لیکن ایک ائیرپورٹ میرپور میں کیا بلکہ پورے آزاد کشمیر میں نہیں ہے تیس تیس پینتیس سالوں سے ایک ایک حلقے میں ممبران اسمبلی چمٹے ہوئے ہیں مجال ہے خود چھوڑیں یا عوام میں اتنا شعور ہو کہ ان کو آٹھا کر باہر پھینک دیں گزشتہ تیس سالوں سے آزادکشمیر کے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے تاکہ ممبران اسمبلی کھمبے، بجلی اور ترقیاتی فنڈر کھاتے رہیں آزادکشمیر کے براہ راست ووٹوں سے جیتنے والے پہلے 29 حلقے تھے جبکہ 12 سیٹیں جموں و کشمیر مقیم مہاجرین کی ہیں 8 سیٹیں سپشل ہیں یعنی 20 سیٹیں صوابدیدی اختیارات کے تحت ہیں کل 49 کا ایوان تھا اب چار سیٹیں بڑھ گئی ہیں اب آئندہ آزادکشمیر میں 33 حلقوں پر انتخابات ہونگے گزشتہ تجربات کی بنیاد پر میں یہ مصدقہ حقیقت بیان کرتا ہوں کہ اسلام آباد وفاق میں جس کی حکومت ہو اسی کی آزاد کشمیر میں حکومت قائم ہوتی ہے چونکہ ہوا کا رخ تبدیل ہوجاتا ہے مہاجرین مقیم جموں وکشمیر کی 12 سیٹیں وفاقی حکومت تحفے میں دے کر آزاد کشمیر میں اپنی حکومت قائم کردیتی ہے اس سے بچنے کی دو صورتیں ہیں ایک یا تو یہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کی جائیں یا آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان میں منعقد ہونے والے انتخابات کے ساتھ ہوں تاکہ کوئی بھی وفاقی حکومت آزاد کشمیر کی عوام کا مینڈیٹ چوری نہ کرے یا حکومت پاکستان آزاد کشمیر کو انتظامی صوبہ بنا دے نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری، تاکہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو بھی انکا حق ملے یہ بھی پاکستان کی سینٹ اور قومی اسمبلی کا حصہ بن سکیں اور یہ وفاداری اور غداری والے سرٹیفکیٹوں کی فیکٹری بھی بند ہوجائے جب بار بار آزمودہ چہرے آزاد کشمیر کی عوام پر مسلط ہوتے ہیں تو اس سے تو بہتر ہے صوبہ بن جائے۔

آزاد کشمیر کی سواد اعظم جماعت مسلم کانفرنس کو توڑا گیا مسلم لیگ بنائی گئی اب توڑنے والے سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات سمیت وہی لوگ مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں تاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں مزے آڑا لیئے اب آ گئے جس کی حکومت بننے جارہی ہے ان کے ساتھ جوڑ توڑ کی جائے اگر آپ کو فصلی بٹیروں کی تعریف نہیں آتی تو میں بتاتا ہوں کہ جب ایک علاقے میں دانہ چگنے کے لئے فصل ختم ہوجائے تو پرندے دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں ہماری اسٹبلشمنٹ بھی ہر الیکشن میں پرانی شراب نئی بوتل میں بند کر کے فروخت کرتی ہے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کو شاید اس بات کا ادارک نہ ہو کہ یہ سارا سین 2005 سے لے کر 2011 کا بن رہا ہے۔
آزاد کشمیر میں بظاہر تحریک انصاف کا طوطی بول رہا ہے اس لئے اس کا ٹکٹ بھی سب سے زیادہ مہنگا ہوچکا ہے ایک ایک حلقے میں کئی کئی کروڑوں کی بولیاں لگ رہی ہیں پیسے لگا کر اگر سیاست کرنی تو ایسی سیاست پر کیا کہیں قارئین خود ہی کہہ دیں جو مناسب سمجھیں اطلاعات ہیں مخلوط حکومت بنائے جانے کا امکان ہے دوسرے نمبر پر مسلم کانفرنس ہے پی ٹی آئی کی ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے رمضان کے بعد مسلم لیگ ن بھی ٹوٹے گئی چوہدری مسعود خالد، نزیر انقلابی، نورین عارف، راجہ عبدالقیوم ڈاکٹر نجیب نقی کے مسلم کانفرنس میں جانے کے امکانات ہیں جبکہ بعض افراد پی ٹی آئی میں ٹکٹ ملنے کی گارنٹی ملنے پر پی ٹی آئی میں جانے کی حامی بھر رہے ہیں مسلم لیگ ن کی پاکستان میں جب حکومت قائم تھی تو آزاد کشمیر کے لوگ پنجاب میں برادی تعلق وغیرہ کا لنک ڈھونڈتے تھے اور اپنے حق میں لابی کرتے تھے اب پی آٹی آئی کی حکومت ہے جس میں50 فیصد مرکز میں پشتون ہیں تو آزاد کشمیر میں الیکشن لڑنے والے نوٹوں کی بوریاں بھر کر اسلام آباد میں بیٹھ گئے ہیں تاکہ ٹکٹ خریدے جائیں۔

کسی بھی قوم کی عزت و توقیر اس کے لیڈر کرواتے ہیں کشمیری قوم کے لیڈروں کی حالت دیکھیے اب زکر ہوجائے بیرون ملک سے جاکر ان کشمیریوں کا جو الیکشن لڑنا چاہتے ہیں وہ بھی لابنگ کررہے ہیں اور لٹنے کے تیار ہیں ان دوستوں سے عرض ہے اس گند میں نہ کودیں یہ آپ کا استحقاق نہیں ہے اور نہ ہی آپ کے بس کی بات ہے آپ اپنی دولت کو الے تللوں کے ہاتھوں نہ لٹائیں پیسے لگا کر ملنے والی عزت اور شہرت اور پوزیشن کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی آپ کوئی رفاعی ادارہ قائم کردیں یتیموں مسکینوں کی دیکھ بحال کریں آج اشارہ کافی ہے اگلی دفعہ اگر آپ نے ارادہ ترک نہ کیا تو نام بھی لکھ دونگا اور کس نے کس کو رقم دینے کا وعدہ کیا ہے یاد رہے آزاد کشمیر میں کسی بھی جماعت کی حکومت قائم ہو موجودہ نظام اور روایتی لیڈروں کے ساتھ کوئی فرق نہیں پڑے گا عوام مزید مسائل سے دوچار ہو گی عمران خان کا نام اور پارٹی استمال ہورہی ہے اندر خانہ وہی کچھ ہے۔
کچھ زکر کرنا تھا سردار تنویر الیاس کا جو بظاہر اپنے آپ کو وزیراعظم کے طور پر پیش کر رہے ہیں یہ سب ان کی دولت میں حصہ وصول کرنے کے لئے ان کے ارد گرد جمع ہیں آخر میں ایسا نہ ہو باغ سے آپ کی اور میرپور سے بیرسٹر سلطان محمود کی اپنی سیٹ پر کامیابی حاصل نہ ہو اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان مرحوم کو کہا کرتے تھے ہمارے خطہ سرزمین میں آگ اور خون کے دریا عبور کرے اقتدار ملتا ہے باقی پھر سہی کھچڑی پکنے تک !!!

50% LikesVS
50% Dislikes