کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 5 – Kashmir Link London

کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 5

جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جدیدیت تبدیلی رجحان ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات اور انڈین نیشنل کانگرس کا منظور نظر ہوتا تھا۔ایک مذہبی اقلیت جو کہ کشمیریorignنہیں تھی اور صرف برطانوی حکومت ہند کے ساتھ تعلقات کی بنا پر ڈوگرہ حکومت اور کشمیر میں ابھرتی ہوئی قیادت(شیخ عبداللہ)سے راہ رسم بڑھانا اور اپنی نغود پذیری چاہتے تھے۔کسی احتجاج وغیرہ میں نہیں پڑنا چاہتے تھے بلکہ برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری کو اپنا فخر اور اثاثہ سمجھتے تھے۔انہیں یقین تھا کشمیر میں سول نافرمانی کی تحریک کی حمایت کی وجہ سے حکومت ہند کی ہمدردی کھو دیں گے۔کانگرس کی دلچسپی شیخ عبداللہ میں بڑھنا شروع ہوئی اور نہرو نے مذہبی اقلیت کے حق میں اخبارات میں کئی مضامین لکھے اور ڈاکٹر علامہ اقبال کے مذہبی اقلیت کے بارے میں اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا۔کانگرس نے اپنی سول نافرمانی کی تحریک کو ترک کرتے ہوئے آئینی سیاست کی طرف واپسی کی۔اسکا شیخ پر بھی قابل ذکر حد تک دبائو بڑا۔برطانوی حکومت ہند کے نمائندے نے شیخ عبداللہ کے کشمیر میں عوامی اثر و رسوخ کو اور طالبعلموں میں بڑھتے ہوئے جارحیت کے رجحان نے برطانوی حکومتی اختیارات کے حاملین نے اپنے رویوں پر نظرثانی کی۔شیخ عبداللہ کو شدت پسندی کے الزامات سے فارغ کر دیا۔شیخ نے نئے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حق رائے دہی کمیشن پر دبائو بڑھایا اور ظاہر کیا کہ وہ سخت رویہ رکھنے والے پیر و کاروں کو روکے ہوئے ہے۔جب انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں ملے گا تو رہنما بھی تشدد کی طرف جڑ جائیں گے۔اسکے نئے کردار نے بھی کچھ خاص اثر پذیری نہ دکھائی۔حق رائے دہی کی رپورٹ فروری1934میں اآئی۔اس رپورٹ کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی75نشستیں تھیں۔33منتخب،12سرکاری اور30نامزد ارکان تھے جنہیں بجٹ میں ووٹ دینے کا حق تھا اور وہ انتظامی کونسل سے سوال پوچھ سکتے تھے۔اس رپورٹ سے مسلمانوں میں بہت افسردگی پھیلی۔آئینِ تبدیلی نے سب کچھ نوجوانوں کے ہاتھ میں دے دیا۔رپورٹ کے رد عمل کے طور پر یہ معاملہ ایگزیکٹو کونسل کے برطانوی فورم سے اٹھایا گیا۔جس نے جواباً مسلمانوں سے کہا کہ وہ الیکشن میں کھڑے ہوں اور نا امیدی ترک کر دیں۔تاہم الیکشن میں مسلمانوں کو ہندو اور سکھوں کے مقابلے میں اکثریتی نشستیں جیتنے کی کوئی خاص امید نہیں تھی۔کیونکہ ووٹنگ کے لئے شرط یہ تھی کہ آدمی کم از کم20روپے سالانہ مالیہ یا کچاریGrazing Feeادا کرتا ہو جو غریب طبقات کے لئے مشکل تھا۔نہرو کے مشورے پر شیخ عبداللہ نے ایک مذہب بیزار سیاست دان کی طرف جھکائو کر لیا۔اب اسکی خواہش تھی کہ جنم بھومی کی آزادی کیلئے لڑنا چاہئے۔ہندو اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کا خوف اور غلط فہمی ختم کر کے تحریک شروع کرنی چاہئے۔برطانوی حکومت ہند کے نمائندےDewan Colvinنے حکم دیا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی یوم پیدائش پر اپنے گھروں پہ چراغاں کریں جس سے یہ معلوم ہو کہ کون اس کے وفادار ہیں۔یہ حکمت عملی کتنی کامیاب تھی اسکا نتیجہ بہت ہی مایوس کن تھا۔ڈوگرہ حکومت کے انسپکٹر جنرل پولیس نے11مئی کو الیکشن کے کاغذات نامزدگی برائے امیدواران کے جمع کرنے سے3گھنٹے پہلے کہا کہ سیاسی قیدیوں کو الیکشن لڑنے کے موقع پر رہا نہیں کیا جائے گا۔قبل ازیں جسکا وعدہ بھی کیا گیا تھا اس کے تحت جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کو سخت دھچکا لگا۔وہ حیران تھے کہ دوسرے درج کا شہری سمجھا جاتا ہے۔
(جاری ہے)

50% LikesVS
50% Dislikes