کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 7 – Kashmir Link London

کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 7

زیادہ تر لکھاری کشمیر کی جہد آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کے کردار کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اسے مذہبی رنگ دیتے رہے ہیں۔ان میں سرالبائن بینر جی اور جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے جی ایم بخشی نمایاں تھے جو اسے اچانک پھوٹ پڑنے والی دھرتی ماں کی تحریک کہتے تھے۔پریم ناتھ بامزئی اور دائی بی ماتھر کا بھی یہی خیال تھا کہ کشمیر کی تحریک میں مذہب کے لبادے کو استعمال کیا گیا ہے،انکی رائے سے متفق ہونا بہت مشکل ہے۔مسلمانوں کی طرف سے تحریک کی ابتدا جبری قوانین کے خلاف احتجاج سے ہوئی جنکے تحت مسلمانوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے کار بند ہونے نہیں دیا جاتا تھا اور اپنے عید جیسے بنیادی تہوار پر جانور تک ذبح کرنے کی اجازت نہیں تھی(بھارت میں تاحال مسلمانوں کو قربانی کی اجازت نہیں ہے)یہ جدو جہد صرف ہندو اور سکھ سرکاری اہلکاروں سے چھٹکارہ پانے کی کوشش نہیں تھی بلکہ اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی جدو جہد تھی۔آزادی کے حصول کی کوشش کے پھیلائو میں اسلام نے بڑے پیمانے پر قوم کے تحرک میں نمائندے کا اہم کردار ادا کیا۔ایسے اجتماعات جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد منعقد ہوتے۔ڈی۔ای سمتھ زور دیتا ہے کہ معاشرے میں قوموں کو سیاست زدہ کرنے میں مذہب زریعے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔تاہم اسکا بڑا مقصد ہندوئوں اور سکھوں کی غالب سرکارب حیثیت اور مہاراجہ کی ثالثی طاقت کو توڑنا تھا اور بہتر معاشرتی رعایتیں حاصل کرنا تھا۔جموں میں جہاد کا نعرہ لگایا گیا تو تشدد پھوٹ پڑا۔دونوں طرف سے غلبے کی کوشش کی گئیں جسکی وجہ سے چند ہندو اور سکھ بھی کھیت رہے۔دوسری طرف مسلمانوں کا جائیدادوں کی صورت میں زیادہ نقصان ہوا۔بظاہر ایسا لگتا ہے تحرک کے عمل میں مذہب بنیادی عنصر ہے اور تنظیم کو پرچار کے معاملے میں مدد دیتا ہے۔ناقابل عبور رکاوٹ کو پار کرنے میں شعوری اعانت کرتا ہے۔کلاس،علم اور علاقائی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔کشمیر میں سیاسی طور پر سیاست اور مذہب کا تال میل نظر آتا ہے۔شیخ عبداللہ نے ہندوستانی سیاست میں کیمبرج طرز کا نمونہ اپنایا۔ایک شخص جوIdealسے روشنی لیتا ہے۔طاقت کا پیچھا کرتا ہے۔یہ دیکھا گیا اس نے کیسے اپنے فائدے کیلئے مرزا محمود کی سر پرستی حاصل کی،میر واعظ حمدانی سے مضبوط تعلق جوڑا اور کس تیزی سے اپنی اسلامی شناخت کو ترک کر دیا۔1934کے الیکشن میں ہندوئوں اور سکھوں کی حمایت کے بغیر نشستیں جیتنا مشکل لگتا تھا،1936میں اس کی سیاست میں واپسی کانگرس کے شاگرد کے طور پر ہوئی اور وہ فرقہ وارانہ یک جہتی کا وکالت کار بنا۔1938میں اس نے اپنے ساتھیوں کو آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ پارٹی کا نام بدل کر جموں کشمیر نیشنل کانفرنس رکھا جائے۔غیر مسلموں کو بطور ممبر داخل کیا جا سکے لیکن چند عملیت پسند مسلمان راہنمائوں نے پارٹی کی نئی جہت کو ناقابل تسخیر قرار دیا۔جب1940میں سخت گیر پارٹی رہنمائوں نے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی تو شیخ نے انہیں عجلت میں یقین دلایا کہ وہ اول و آخر مسلمان ہی ہیں۔Robinson Brassنے ہمیں یاد کرا کے ایک قابل قدر خدمت سرانجام دی ہے کہ مغرب زدہ سیاست دان بھی مذہب سے دوری اختیار نہیں کر سکتے جیسے لیاقت علی خان،خلیق زمان اور محمود آباد شیخ عبداللہ نے اپنے عقیدے کو سنجیدہ لیا اسکے لئے اپنے آپ کو غیرمقلد کہنا ممکن نہیں رہا تھا۔Robinsonکہتا ہے لا دین سیاست دان بھی قدروں،ثقافت اور مذہب کے زیر اثر ہوتے ہیں۔Robinsonزور دیتا ہے جنوبی ایشیا کے مسلمان عام طور پر اپنے عقیدے کی بنیاد پر اور کسی حد تک اصل اور غیر مذہبی جماعت تھی اور لاد بن منزل کے حصول کیلئے کوشاں تھی۔1980میں شیخ نے مثالی طور پر لا دین اور کشمیریوں کی سرگرم حمایت اور تعاون ہندوستانی حکومت کیساتھ جاری رکھا۔دوسری طرف کشمیر کی جہد آزادی میں بہت واضح دکھائی دیتا ہے کہ مذہبی وابستگی کی خود سے کوئی ضمانت نہیں ہے اور نہ ہی اس تحریر کے وقت کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ابھرتی ہوئی پڑھی لکھی اشرافیہ کے درمیان یہ بات غالباً اہم تھی ہمیں احمدیوں کا مالی کردار اور ڈوگرہ حکومت کا جبر جو اس جہد آزادی کا سبب بنا اس نے اسکے دور آمدہ مقاصد اور درمیانے درجے کی جدید قیادت کو بڑھاوا دیا۔صاف ظاہر ہے یہ علامتی نامزدگی اور ہیرا پھیری کا کھیل تھا۔آخر کار کشمیر کا تجزیہ ایک سنجیدہ للکار تھی۔Robinsonکے نقطہ نظر سے مسلمانوں نے ہر جگہ اپنے آپ کو مساوات برادری کا رکن دیکھا۔ہندو اور سکھوں کے معاملے میں کشمیر کے مسلمان یقیناً ایک مربوط گروپ خیال کرتے تھے لیکن یہ ربط انکے آپسی معاملات تک وسیع نہیں تھا جو فرقہ واریت میں بہت تلخ تھا۔کشمیر کے مسلمان نظریاتی طور پر میر واعظ صاحبان میں منقسم تھے۔انگریزوں کے قابض ہونے کے بعد کی اگر ہندوستانی تاریخ پر وسیع نظر ڈالیں تو مسلمانوں کی کوئی ’’خاص اہمیت نہیں ہے جیسے شمالی آئر لینڈ میں عیسائیوں کی‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes